بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

بالوں کو قبر کے سرہانے رکھنے کی وصیت کرنا


سوال

اگر ایک عورت اپنی زندگی میں اپنے بال جمع کر رہی ہو اور  یہ وصیت کرے  کہ  میرے مرنے کے بعد  ان بالوں کو میری قبر  کے سرہانے رکھنا،تو کیا ورثاء کے لیے میت کی اس وصیت کو پورا کرنا  ضروری ہے؟نیز بالوں کو میت کے قبر کے سرہانے رکھنے کی شرعی  حیثیت کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کوئی  شخص  کسی  غیر وارث  کے لیے اپنے ثلث  مال کی وصیت کرے تو  ورثا کے لیے اس وصیت کا پورا کرنا ضروری ہے ،اس کے علاوہ میت کی باقی وصیتوں کا پورا کرنا لازم نہیں،نیز میت کی غیر شرعی وصیت کا پورا کرنا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق عورت نے اپنے  بالوں کو  قبر کے سرہانے رکھنے کی جووصیت کی ہے، ورثا کے لیے اس وصیت کو پورا کرنا  ضروری نہیں، نیزشریعت میں قبر کے سرہانے میت کے بالوں کو رکھنے کی کوئی  حقیقت نہیں۔

 

ولوأوصی بأن یدفن فی دارہ فوصیتہ باطلة،إلا أن يوصی ان یجعل دارہ مقبرۃ المسلمین۔(الفتاوی الھندیة،کتاب الوصایا،ج:3ص:330)

(قولہ: و الفتوى على بطلان الوصية) عزاه في الهندية إلى المضمرات أي لو أوصى بأن يصلي عليه غير من له حق التقدم أو بأن يغسله فلان لايلزم تنفيذ وصيته۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،ج:2ص:221)


فتویٰ نمبر : 3682/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں