بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

کمپنی کی طرف سے دیا ہوا تیل بچا کر فروخت کرنا


سوال

ہم کچھ ساتھی ایک کمپنی کے لیے کام کرتے ہیں ۔بجلی کا کام ہے اور ہر ایک کو ایک علاقہ حوالہ کیا گیا ہے۔ کمپنی  اندازے سے ہم  میں سے  ہر ایک کو 20 لیٹر ڈیزل دیتی ہے،ان کو یہ معلوم ہے کہ اس سے ہر ایک اپنے علاقے کو کور کر سکتا ہے ۔پھر ہم ڈیزل بچاتے ہوئے گاڑی چلاتے ہیں،جس کا ہمیں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ہمارے لیے کچھ ڈیزل بچتا ہے ،جسےہم بیچتے ہیں۔لیکن ڈیزل بچانے میں گاڑی کو اندرونی نقصان پہنچتا ہے۔تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

جواب

کوئی کمپنی اپنے ملازم کو کمپنی کے کام کے لیے  جو  کچھ دیتی ہے، وہ صرف  استعمال کے لیے دیا جاتا ہے، اسے بیچنے یاکسی دوسرے کو دینے کی اجازت نہیں ہوتی ۔لہذا صورت مسئولہ کے مطابق کمپنی کی طرف سے  جو ڈیزل ملتا ہے اسے بچا کر  فروخت کرنا جائز نہیں ۔اس کی آمدنی حرام ہے۔

 

"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه."(رد المحتار على الدر المختار، کتاب الغصب، ج:6، ص:200)


فتویٰ نمبر : 6132/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں