بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ویلفیئر سوسائٹی کا حکم


سوال

ایک تعلیمی ادارے کے بعض اساتذہ کا ارادہ ہے کہ ادارہ ہذا میں ایک ویلفیئر سو سائٹی قائم کی جائے،جس میں تمام اساتذہ کرام اور طلباء باہمی چندہ جمع کر یں اور چندہ وقف یا تبرع کی حیثیت سے جمع کروائیں گے اور بعد میں ضرورت کے وقت ، اسی چندہ سے ادارے کے اساتذہ وطلباء یا دوسرے عملہ کی بالخصوص اور ملکی سطح پرکسی ناگہانی آفت کے مو قع پر بالعموم مسلمان بھائیوں کی مالی مدد کی جائے گی ، اور اس تمام کام کی نگرانی کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے گی اور ادارے کے ایک استاد کو امین (وکیل) کی حیثیت سے چیئر مین مقرر کر یں گے۔جو چندہ جمع کرنے اوراس کے بعد تمام تصرفات کے امور کی نگرانی کرے گا ۔

اغراض ومقاصد: I. ادارہ میں باہمی اتفاق و اعتماد کے جذبہ کو اجاگر کرنا II. بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینا III. ناگہانی حادثہ کی صورت میں مالی تعاون کرنا IV. خوشی وغمی کے وقت قرض حسنہ کی سہولت V. بیماری کی صورت میں علاج معالجہ کا بندوبست کرنا VI. فوتگی کے موقع پر مالی تعاون VII. مستحق طلبہ کو تعلیمی سہولتیں فراہم کرنا VIII. اساتذہ یا عملہ میں سے کسی کی شادی یا اولاد کی شادی میں مالی تعاون IX. قدرتی اورناگہانی آفات کی صورت میں ملکی سطح پر ہر ممکن امداد مہیا کرنا ۔

چندہ کا طریقہ کار: i. چندہ ایک پول کی صورت میں جمع ہوگا ii. چندہ وقف/تبرع کی نیت سے دیا جائے گا۔ iii. کسی ممبر یا ادارہ کی ملکیت نہیں ہو گابلکہ ممبرز کی ملکیت سے خارج ہوگا iv. چندہ میں صدقات واجبہ شامل نہیں کیے جائیں گے اور اگر صدقہ واجبہ جمع ہوا تو اس کے شرعی مستحق پر الگ سے صرف کیا جائے گا۔ v. چندہ کسی شرط سے مشروط نہیں ہوگا vi. چندہ کسی عقدکا نتیجہ نہیں ہوگا vii. کسی بھی ممبر پر متعین چندہ نہیں ہوگا اپنی حیثیت کے مطابق جو جتنا چاہے دے سکتا ہے viii. چندہ طیب خاطر سے ہوگا کسی پر کوئی الزام وجبر نہیں ہوگا،اور جس کا دل نہیں چاہتا وہ چندہ جمع نہ کروائے۔ ix. ہر اسٹاف ممبر ہر ماہ یا جب چاہے چندہ خاموشی سے خود جمع کروائے گا ۔

شرائط و ضوابط: 1: ویلفیئر سوسائٹی کا چیئرمین امین کی حیثیت سے تصرف کرےگا۔ 2:تصرف چیئرمین اور کمیٹی کی صوابدید پر ہوگا۔ چندہ دہند گان پر بھی صرف ہو سکے گا اور اس کے علاوہ بھی۔ 3:غیر شرعی امور میں خرچ نہیں کیا جائے گا۔ کمیٹی: چار ،پانچ ممبر پر مشتمل ہو گی۔

1۔کیا اس طرح ویلفیئر سوسائٹی بنانا جائز ہے؟ 

2۔ اگر اس سوسائٹی کے اصول وضوابط یا طریقہ کار وغیرہ کہیں شرعی طور پر صحیح نہیں ہیں تو اس کی درستگی کیا ہو سکتی ہے؟

3۔اب سوال یہ ہے کہ بسا اوقات طلباء سے مالی جرمانہ لیا جاتا ہے تو کیا اس جرمانہ کو اس چندہ کے ساتھ جمع کر سکتے ہیں؟

4۔  اور  کیا  اس سوسائٹی میں  چندہ وقف اور تبرع دونوں کی حیثیت سے جمع کر سکتے ہیں ؟ یا کسی ایک کی حیثیت سے جمع کر سکتے ہیں؟شرعا صحیح صورت کیا ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی شرائط اور احکام کی رعایت کرتے ہوئے ایسا ادارہ قائم کرنا جائز ہے جس میں غریب اور لاچار لوگوں کی مدد کی جائے اور ان کی  ضروریات کو پوراکیا جائے ۔

صورتِ مسئولہ میں ویلفیئر سوسائٹی کے ذکر کردہ اصول وضوابط  اور طریقہ کار شرعی طور پرصحیح ہے ۔البتہ طلبہ سے غیر حاضر ی یا ادارے کے قوانین کی خلاف ورزی پر جو مالی جرمانہ  لیا جائے بہتر یہ ہے کہ وہ ان کو واپس کیا جائےلیکن اگر واپس کرنے سے ان کی اصلاح ممکن نہ ہو پھر یہ جرمانہ طلبہ ہی کے  فلاحی کاموں  میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ نیز ویلفیئرسوسائٹی میں چندہ وقف اور تبرع  دونوں کی حیثیت سے  جمع کرسکتے ہیں اس میں کوئی شرعی مانع نہیں ،شرط یہ ہےکہ چندہ دہندگان  چندہ رضامندی سےجمع کرائیں ،اورکسی قسم کا جبر اور زبر دستی  نہ ہو۔

 

وأفاد في البزازية ‌أن ‌معنى ‌التعزير ‌بأخذ ‌المال ‌على ‌القول ‌به ‌إمساك ‌شيء ‌من ‌ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى.(البحر الرائق شرح کنز الدقائق،ج:5،ص:68)

يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ‌ومن ‌قال: ‌إن ‌العقوبة ‌المالية ‌منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها.وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته - صلى الله عليه وسلم - مبطل لدعوى نسخها، والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ولا إجماع يصحح دعواهم.(معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام،ص:195(


فتویٰ نمبر : 6254/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں