بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

دیہات والوں كے لیے غیر مملوک ٹیلوں، پہاڑیوں اور غیر آباد زمینوں كو آپس میں تقسیم کرنا


سوال

دیہاتوں کے آس پاس غیر مملوک ٹیلے، پہاڑیاں اور غیر آباد زمینیں ہوتی ہیں، اگر دیہات والوں کو رہنے کے لیے، کاشت کاری کے لیے یا کسی دوسری ضرورت کے لیے ان کی تقسیم کی ضرورت پڑ جائے، تو وہ کس تناسب سے تقسیم کی جائیں گی؟ یعنی آبادی کے تناسب سے یا زمین کی ملکیت کے تناسب سے، مثلاً:  جس گھرانے کے افراد زیادہ ہیں، ان کو زیادہ حصہ دیا جائے اور جس کے کم ہیں ان کو تھوڑا حصہ دیا جائے،  یا گاؤں میں جو جتنی زمین کا مالک ہے، یہاں اسی تناسب سے اس کو زمین دی جائے۔

جواب

واضح رہے کہ دیہاتوں کے غیرمملوک  ٹیلے، پہاڑیاں اورغیر آباد زمینیں "ارض موات" کہلاتی ہیں۔ ارض موات کا حکم یہ ہے کہ حکومت کی اجازت  کے بغیر کوئی بھی ان  کا مالک نہیں بن سکتا، البتہ اگر کوئی شخص حکومت سے اجازت لیکر ان کو آباد کرے تو وہ ان کا مالک ہوگا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق دیہات والوں کے لیے آس پاس غیرمملوک  ٹیلوں، پہاڑیوں اور غیر آباد زمینوں کو حکومت کی اجازت کے بغیر آپس میں تقسیم کرنا جائز نہیں۔ تاہم اگر علاقے والے حکومت سے اجازت لیکر آباد کرلیں تو حکومت جس کو جتنی جگہ آباد کرنے کے لیے دے اور وہ اس کو آباد بھی کرلے تو وہ اس کا مالک بن جائے گا۔

 

فالأرض الموات هي أرض خارج البلد لم تكن ملكا لأحد ولا حقا له خاصا.(بدائع الصنائع، كتاب الأراضي، ج:6، ص:196)

‌إذا ‌أحيا وعمر أحد أرضا من الأراضي الموات بالإذن السلطاني يصير مالكا لها، وإذا أذن السلطان أو وكيله أحدا بإحياء الأرض على أن ينتفع بها فقط ولا يتملكها فيتصرف ذلك الشخص في تلك الأرض على الوجه الذي أذن به ولكن لا يملك تلك الأرض.(مجلة الأحكام العدلية، المادة:1272، ص:244)

(من أحيا أرضا ميتة فهي له) صرح به في رد المحتار ۔ ۔ ۔ ثم أن ما ذكر من الحكم هو قول الإمام رحمه الله تعالى وقالا يملكها بلا إذن ۔ ۔ ۔ له أن الأرض مغنومة لإستيلاء المسلمين عليها فلم يكن لأحد أن يختص بها بدون إذن الإمام كسائر المغانم ۔ ۔ ۔ قال في رد المحتار وقول الإمام هو المختار ولذا قدمه في الخانية والملتقى كعادتهما وبه أخذ الطحطاوى وعليه المتون.(شرح المجلة لخالد الأتاسي، المادة: 1272، ج:4، ص:204)


فتویٰ نمبر : 3739/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں