بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شوہر طلاق سے انکار کرے تو بیوی کےلیے حکم


سوال

اگر کوئی شخص بیوی کو طلاق دے پھر انکار کرے اور یہ عمل بار بار کرتا رہے تو بیوی کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

اگر کوئی شخص بیوی کو طلاق دے اور  پھر منکر ہوجائے، تو اس صورت میں عورت مدعیہ شمار ہوگی، لہذا وہ شوہر کے طلاق دینے پر شہادت قائم کر ے گی، اگر اس  کے پاس گواہ موجود نہ ہوں تو شوہر سے طلاق نہ دینے پر قسم لی جائے گی، تا ہم اگر شوہر بیوی کو بار بار طلاق دیتا ہو اور پھر انکار کرتا ہو، جب کہ  بیوی کے پاس گواہ نہ ہوں تو اس کو چاہئے کہ عدالت کے ذریعے شوہر سے علیحدگی حاصل کرے۔

 

وإذا ‌ادعت ‌المرأة خلعاً أوطلاقا وجحد ذلك الزوج فالمرأة هي المدعية وعليها البينة. (الأصل للإمام محمد بن حسن الشيباني، كتاب الدعوى والبينات، ج: 7، ص: 577)

ولا يسع المرأة إذا سمعت ذلك أن تقيم معه لأنها مأمورة باتباع الظاهر ‌كالقاضي۔( المبسوط للسرخسي،كتاب الطلاق، باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق، ج: 6، ص: 70)

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكرالأوزجندي ‌أنها ‌ترفع ‌الأمر ‌إلى ‌القاضي ‌فإن ‌لم ‌يكن ‌لها ‌بينة ‌يحلفه ‌فإن ‌حلف ‌فالإثم ‌عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث۔ ( البحر الرائق، کتاب الطلاق،  باب ألفاظ الطلاق،ج: 3، ص: 369)

(قوله وثلاث قضاء) لأنه يكون ناويا بكل لفظ ثلث تطليقة، وهو مما لا يتجزأ فيتكامل فيقع الثلاث بحر عن المحيط. قال في الفتح: والتأكيد خلاف الظاهر، وعلمت أن ‌المرأة ‌كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج: 3، ص: 305)


فتویٰ نمبر : 7100/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں