بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

جعلی کاغذات کی بنیاد پر اکاؤنٹ بنواکرنفع کمانا


سوال

میں نے میزان بینک میں بزنس اکاونٹ بنایا ہے  جب کہ میرا کوئی بزنس نہیں ہے بلکہ دو نمبر کاغذات بنواکر بینک والے کو دکھاکر اکاونٹ بنوایا ہے، اور میں اب اس اکاونٹ کے ذریعے پیسے کماتا ہو ں یعنی باہر سے لوگ میرے اکاونٹ پر پیسے بھیجتےہیں  اور میں ان کے گھر والوں تک پہنچاتا ہوں اور میں ان پیسوں میں سے اپنی خدمت کا عوض لیتا ہوں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ کمائی میرے لئے درست ہے یا نہیں ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روشنی میں جعلی کاغذات بنوا نادھوکہ ہونے کی وجہ سےجائز نہیں ،اور ایسا فعل شرعی،اخلاقی اور قانونی ہر اعتبار سے ایک قابل ملامت اور قبیح فعل ہے۔البتہ جعلی کاغذات  کے سبب جس کام کو سرانجام دیا گیاہو ،اگروہ جائزطریقےسےکیا گیاہو  تو اسں کی اجرت لینا جائز ہو گا ،اگر چہ دھوکہ دینے کی وجہ سے گناہ  گار ہوگا۔

صورت مسئولہ میں سائل نے دو نمبر (بوگس )کاغذات سےبزنس اکاؤنٹ بنایا ہے،جوکہ دھوکہ کی وجہ سےایک نا جائزعمل ہے،جس کی وجہ سےگناہ گار ہوگا۔ لہٰذا اس عمل پر توبہ اوراستغفار کرنا چاہیے،البتہ جس کام کو سرانجام دے رہاہے اگراس کو شرعی اصولوں کے مطابق ادا کیا ہو تواس کے ذریعے کمایاہوا مال کھانا جائز ہے۔

 

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا،فقال:ما هذا يا صاحب الطعام؟قال أصابته السماء يا رسول الله، قال:أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس،من غش فليس مني. (صحيح مسلم ،باب قول النبي ﷺمن غشنا فليس منا:ج،1،ص،70)

غصب حانوتا واتجر فيه وربح يطيب الربح كذا في الوجيز للكردري. (الفتاوى الهندية، كتاب الغصب، الباب الثامن،ج:5،ص:142) 


فتویٰ نمبر : 6151/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں