بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تکبیرتحریمہ اور سلام میں مقتدی کا امام سے سبقت کرنا


سوال

ہمارے ہاں اکثر علما ائمہ مساجد تکبیرتحریمہ  اور خاص کر سلام  کو اتنا  لمبا کرکے پڑھتے ہیں کہ نا سمجھ مقتدی امام سے پہلے تکبیر اور سلام ختم کرتے ہیں ،تو ان کی نماز کا کیاحکم ہے؟

جواب

شرعی نقطہ نظرسے مقتدی کے لیے نماز کے دوران امام کی متابعت ضروری ہے،امام کی متابعت واجبہ تین قسم کی ہے،ایک یہ کہ مقتدی امام کے ساتھ تمام ارکان میں پوری طرح برابرشریک رہے،دوسری یہ کہ کسی رکن میں امام تھوڑاآگے چلا جائےاورمقتدی پیچھےرہ جائے،تیسری یہ کہ امام کسی رکن سے بالکل فارغ ہواور مقتدی امام کی ادائیگی کے بعد وہ رکن ادا کرے۔ان تینوں صورتوں میں متابعت کا حق ادا ہو کرمقتدی کی نمازدرست ہو گی،تا ہم تیسری صورت اگر بغیرعذر کی ہو تو مکروہ ہے۔

لہذاصورت مسئولہ میں تکبیر تحریمہ کے وقت اگر مقتدی امام کے ”اللہ اکبر“ مکمل کہنے سے پہلے ہی اپنی تکبیر پوری کرلے تو اس سے مقتدی نماز میں شامل نہ ہوگا، اگر وہ دوبارہ تکبیر کہہ کر کے نماز میں داخل نہ ہوا ،تو اس کی نماز ادا نہیں ہوئی لہٰذا دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہے،البتہ اگر سلام میں امام سے سبقت کرجائے یعنی امام سے پہلے اپنا سلام مکمل کرلے ،تو نماز کراہت  کے ساتھ ادا ہوجائے گی،لیکن بلاعذر ایسا کرنا گناہ ہے؛ اس لیے کہ سلام میں بھی امام کی متابعت واجب ہے۔ 

 

عن عائشةأم المؤمنين انها قالت صلی رسول الله في بيته قال إنما جعل الإمام لیؤتم بہ فإذا رکع فارکعوا وإذا رفع فارفعوا وَإذا قال: سمع الله لمن حمدہ فقولوا: ربنا ولک الحمد(الصحیح للبخاری، کتاب الأذان، باب إنما جعل الإمام لیؤتم بہ، ج:1، ص: 95)

ولا يصير شارعا بالمبتدأ فقط ك (الله) ولا ب (أكبر) فقط هو المختار، فلو قال الله مع الإمام وأكبر قبله أو أدرك الإمام راكعا فقال الله قائما وأكبر راكعا لم يصح في الأصح؛ كما لو فرغ من (الله) قبل الإمام۔ (الدرالمختار شرح تنویرالأبصار،کتاب الصلاۃ،باب صفۃالصلاۃ،ج:2،ص:178)

قوله: "‌وكره ‌سلام ‌المقتدي الخ" أي تحريما للنهي عن الاختلاف على الإمام إلا أن يكون القيام لضرورة صون صلاته عن الفساد كخوف حدث لو انتظر السلام وخروج وقت فجر وجمعة وعيد ومعذور وتمام مدة مسح ومرور مار بين يديه فلا يكره حينئذ أن يقوم بعد القعود قدر التشهد قبل السلام...قوله: "لتركه المتابعة" علة لقوله وكره وأفاد به أن الكراهة تحريمية ۔(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح،ص:311)


فتویٰ نمبر : 10361/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں