بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

باپ کا بیٹی کے مہر کو لینا


سوال

       کیا کوئی باپ اپنی بیٹی کا مہر خود لیکر اپنے استعمال میں لا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مہر بیوی کا حق  ہےجو شوہر کے ذمےبیوی کو دینا لازم ہوتا ہےاور بیوی کی اجازت کے بغیر اس کے باپ یا کسی بھی دوسرے شخص کے لیے مہر کی رقم لینا اور استعمال کرنا جائز نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ میں باپ کا بیٹی کے مہر کولینااور اپنے استعمال میں لاناجائزنہیں ،یہ بیٹی کا حق ہے ۔تاہم اگر بیٹی کی اجازت سے باپ یہ پیسے لےکر استعمال کرے تواس  کی گنجائش ہے ۔

 

قال رحمه الله: (و لها منعه من الوطء و الإخراج للمهر، و إن وطئها) أي لها أن تمنع نفسها إذا أراد الزوج أن يسافر بها أو يطأها حتى تأخذ مهرها منه، و لو سلمت نفسها و وطئها برضاها لتعين حقها في البدل، كما تعين حق الزوج في المبدل و صار كالبيع.(تبيين الحقائق،باب المهر،ج:2،ص:155)

وللمالك أن ‌يتصرف ‌في ‌ملكه كيف يشاء.(العنايةشرح الهداية،باب الوصيةبثلث المال،ج:10،ص:442)


فتویٰ نمبر : 7105/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں