بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

زندہ شخص کے لیے ایصالِ ثواب کرنا


سوال

کیا زندہ شخص کو کسی نیکی کا ثواب پہنچانا درست عمل ہے؟ جیسے مردوں کو ایصالِ ثواب کیا جاتا ہے، کیا  زندہ شخص  کے لیے بھی  ایصالِ ثواب  کرنا جائزعمل ہے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے ایصال ثواب کی نیت سے جو  نیک اعمال کیے جاتے ہیں تو ان کا اجر خود عمل کرنے والے کو بھی حاصل ہوتا ہے اور جن لوگوں کےایصال ثواب کے لیے  عمل کیاجائے، ان کو بھی ثواب  پہنچتاہےچاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ ۔ لہذا زندہ لوگوں کو کسی نیک عمل کا ثواب پہنچانا جائز ہے۔

 

من ‌صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز.(ردالمحتارعلی الدر المختار،كتاب الصلوة، باب صلوة الجنائز،مطلب في القراءة للميت،ج:3 ،ص:152)

والأصل ‌فيه ‌أن ‌الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذلك.(البحرالرائق، كتاب الحج ،باب الحج عن الغير،ج:3,ص:63)


فتویٰ نمبر : 10343/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں