بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بھیک مانگنے والے کو زکوٰۃ دینا


سوال

کیا بھیک مانگنے والوں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو لوگ غریب اور نادار ہوں یعنی صاحبِ نصاب نہ ہوں، تو ان کو زکوٰۃ دینا جائز ہے، چاہے وہ لوگوں سے سوال کرتے پھریں یا نہیں۔

 لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر بھیک مانگنے والےکے بارے میں غالب گمان یہ ہو کہ زکوٰۃ کا مستحق ہے تو اس کو زکوٰۃ دینے میں کوئی حرج نہیں، اور اگر مستحقِ زکوٰۃ ہونے میں شبہ ہو تو زکوٰۃ نہ دی جائے۔

 

قال الله تعالى: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ﴾ (التوبة:60)

وهذا ‌إذا ‌تحرى فدفع وفي أكبر رأيه أنه مصرف أما إذا شك ولم يتحر أو تحرى فدفع وفي أكبر رأيه أنه ليس بمصرف لا يجزئه إلا إذا علم أنه فقير هو الصحيح۔ (الهداية، كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز، ج:1، ص:113)


فتویٰ نمبر : 10338/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں