بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

تین دن کے بعد تعزیت کرنا


سوال

ایک شخص وفات پا گیا ہے اور اس کا ایک رشتہ دار سعودی عرب میں تھا۔ وہ میت کی وفات کے ایک مہینہ  بعد آیا ہے، تو کیا وہ اب تعزیت کے لیے جاسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے لواحقین سے تین دن تک تعزیت یعنی ان کو تسلی دینا اور صبر کی تلقین کرنا جائز ہے، البتہ اگر کوئی مسافر ہو یا تین دن کے بعد اُسے معلوم ہو جائے تو وہ تین دن کے بعد بھی تعزیت کر سکتا ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جب میت کا رشتہ دار سعودی عرب سے میت کی وفات کے ایک مہینے بعد آیا ہےتو وہ تعزیت کر سکتا ہے۔

ووقتها ‌من ‌حين ‌يموت ‌إلى ‌ثلاثة ‌أيام ويكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها۔۔۔۔ويستحب ‌أن ‌يقال ‌لصاحب ‌التعزية: غفر الله تعالى لميتك وتجاوز عنه وتغمده برحمته ورزقك الصبر على مصيبته وآجرك على موته، كذا في المضمرات ناقلا عن الحجة. وأحسن ذلك تعزية رسول الله صلى الله عليه وسلم «إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى»۔۔۔۔ولا بأس لأهل المصيبة أن يجلسوا في البيت أو في مسجد ثلاثة أيام والناس يأتونهم ويعزونهم۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، ج:1، ص:167)


فتویٰ نمبر : 10337/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں