بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/08/2026

دارالافتاء

 

انفال،ہریال اور فریال نام رکھنا


سوال

 

انفال،ہریال اور فریال نام رکھنا  شرعاً کیسا ہے ؟

جواب

والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ  اولادکی پیدائش کے بعد ان کے لیے اچھا نام تجویز کریں،نام رکھنے میں نسبت یا  معنی کی رعایت رکھنا ضروری ہے کیونکہ اچھے اور بامعنی نام کا اثر اچھا ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق انفال عربی زبان كا لفظ ہے ۔"انفال" نفل کی جمع ہے  اس کے معنی:اموال غنیمت،ہدیہ،تحفہ  ،عطیہ کے ہیں ،اور" ہریال" اردو زبان کا لفظ ہے  ، اس کا معنی   سرسبز،تروتازہ ،شاداب وغیرہ کے ہیں۔ یہ دونوں   نام معنی کے اعتبار  سے درست ہیں،   لہذا  یہ  نام رکھنا جائز ہے ۔جب کہ "فریال" نام  کے بارے میں  یہ معلوم نہ ہو سکا  کہ کونسی  زبان کا لفظ ہے اور کیا معنی رکھتا ہے۔

 

عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم. (سنن أبي داود، باب في تغيير الأسماء، ج:2، ص985)

نفل: ‌النفل، ‌بالتحريك: الغنيمة والهبة؛ قال لبيد:إن تقوى ربنا خير نفل، … وكل عطية تبرع بها معطيها من صدقة أو عمل خير فهي نافلة. ابن الأعرابي: النفل الغنائم، والنفل الهبة، والنفل التطوع.(لسان العرب،فصل  النون،ج:11،ص:670)

ہریال: سرسبز، ،تروتازہ ،شاداب۔(فیروزاللغات اردو، ص:1505)


فتویٰ نمبر : 6128/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں