بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کو زکوۃ دینا


سوال

بیٹے کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہےکہ زکوۃ دینے والے اور وصول کرنے والے کے درمیان ایسا رشتہ نہ ہو،جس کی وجہ سےان کے اموال باہم مشترک سمجھے جاتے ہوں،تاکہ زکوۃ کا مال اپنے مفاد میں استعمال ہونے کی بجائے معاشرے کے دیگر حاجت مند افراد تک پہنچ جائے، اس لیے اپنے اصول( باپ،دادا،نانا،ماں،دادی،نانی اور اس سے اوپر کے اباؤ اجداد)اور فروع(بیٹے،پوتے یا اس سے نچلے درجے کی اولاد)کو زکوۃدینا جائز نہیں۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق باپ کا اپنے بیٹے کو زکوۃ دینا جائز نہیں۔


قال:(ولايدفع المزكي زكاته إلى أبيه وجده وإن علا ولا إلى ولده وولد ولده وإن سفل)لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلايتحقق التمليك على الكمال.(الهدايةفي شرح بدايةالمبتدي،كتاب الزكاة،باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لايجوز،ج:1،ص:111)


فتویٰ نمبر : 10367/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں