بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مشترک باغ میں عمل کرنے والے شریک کے لیے تنخواہ مقرر کرنا


سوال

ہم چار بھائی  ہیں ،تین شہر میں رہتے ہیں اور ایک دیہات میں ، ہمارا ایک باغ ہے دیہاتی علاقے میں ، اس کو سنبھالنا ہم چار بھائیوں کے ذمے ہے، ایک بھائی اس بناء پر تیار ہوگیا کہ میں  باغ  سنبھا ل لوں  گا چاہے جتنا وقت لگے ، لیکن مجھے ہر ماہ 35 ہزار روپےچاہیے   اور  جو منافع نکلے اس میں  ہم سب برابر کے حصے دار ہوں گے ، کیا اس کے لیے  ہر ماہ 35 ہزار لینا جائز ہے یا نہیں؟ دوسری بات ،کیا ان خرچوں ( جو ہر ماہ 35 ہزار روپے کے صورت میں  اس پر ہوا ہے )کے ساتھ عشر لازم ہے یا ان خرچوں کو نکالنے کے بعد ؟

جواب

 

 واضح رہے کہ اگر باغ عاقدین کے درمیان مشترک ہواور عمل ایک جانب سے ہو تو ایسی صورت میں اگر عامل کواس کےعمل کے عوض اس کے حصےکے علاوہ تنخواہ مقرر  کر  دی جائے  تویہ جائز ہے،اسی طرح مجموعی پیداوار سے عشر ادا کرنا ضروری ہے ۔

 مسئولہ صورت کےمطابق اگرچاربهائيوں نےمشترکہ طور پر  ایک بھائی کو باغ سنبھالنے کے لیے  دیا ہو تو عمل کرنے والےکے لیے  اس کے حصے کے علاوہ عمل کے عوض  (35) پینتیس  ہزارروپےبطور تنخواہ مقرر کرنا جائز ہے ، نیزباغ پر ہونے والے اخراجات کو منہا کیے بغیر   کل پیدوارمیں سے عشراداکیا جائے گا۔

 

وكل شيء ‌أخرجته ‌الأرض مما فيه العشر لا يحتسب فيه أجر العمال ونفقة البقر " لأن النبي عليه الصلاة والسلام حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة فلا معنى لرفعها.(الهداية، كتاب الزكاة، باب زكوة الزروع والثمار، ج:1،ص:109)

(نصف العشر قبل رفع مؤن الزرع) بضم الميم وفتح الهمزة جمع المؤنة وهي الثقل والمعنى بلا إخراج ما صرف له من نفقة العمال والبقر وكري الأنهار وغيرها مما يحتاج إليه في الزرع لإطلاق قوله عليه الصلاة والسلام "فيما سقته السماء العشر وفيما سقي بالسانية نصف العشر"؛ ولأنه عليه الصلاة والسلام حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤن فلا معنى لرفعها هذا قيد لمجموع العشر ونصفه كما لا يخفى. (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، كتاب الزكوة، باب زكوة الخارج، ج:1، ص:216)

ولو باع العنب أخذ العشرمن ثمنه وكذالك لوإتخذه عصيرا ثم باعه فعليه عشرثمن العصيركذا في محيط السرخسي۔(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،في زكوة الزرع والثمار،ج:1،ص:249)

وقال الحافظ العيني رحمه الله تعالى: وقيل: هاهنا نظران: الأول في قوله حيث لا يجب الأجر كيف يقول لا يجب، لأنه قد وجب وقبض وهو نصف الطعام، ثم يقول لأن المستأجر ملك الأجر. والثاني في قوله لأن ما من جزء يحمله إلا وهو عامل لنفسه نظر، فإن هذا ممنوع (إلى) ولكن الحق أن الجزء اللذي لشريكه ليس هو عاملا فيه لنفسه بل لشريكه فهو فى الحقيقة عامل لنفسه وعامل لشريكه فأخذه الأجرة في مقابلة عمله لشريكه۔ (البناية شرح الهداية، كتاب الأجارة، ج:7، ص: 322)

إذا ‌شرطا ‌الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا۔(بدائع الصنائع،فصل في بيان جواز أنواع الشركة،ج:6،ص:62)


فتویٰ نمبر : 6129/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں