بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نابالغ کی قبر پر سورۃ بقرہ کی آیتیں پڑھنا


سوال

 نابالغ بچے کو دفن کرنے کے بعد اس کی قبر پر سورہ بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اگر یہ آیات مغفرت کی نیت سے پڑھی جائیں تو کیا یہ درست ہے، جبکہ نابالغ بچہ تو گناہوں سے پاک ہوتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ میت کو دفنانے کے بعد ایک آدمی کا سرکی جانب کھڑے ہوکر سورۃ بقرۃکی ابتدائی آیتیں المفلحون تک اور دوسرے کا پاؤں کی جانب کھڑے ہوکرسورۃ بقرۃکی آخری دو آیتیں پڑھنا  حدیث سے ثابت ہے ۔ محدثین نے ان آیات کے پڑھنے کی علت میت کو ایصال ثواب کرنا بتایا ہے اور حدیث میں چھوٹے یا بڑے کی قیدبھی نہیں لگائی گئی ہے بلکہ مطلق ذکر کیا گیا ہے ،لہذابچےکی قبرپرسورۃ بقرہ کی ابتدائی آیتیں اورآخری آیتیں  اگر پڑھی  جائیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیوں کہ بچے کی مغفرت یقینی ہونے کے باوجود اس کے لئے ایصالِ ثواب میں کوئی حرج نہیں ۔

 

أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو شعيب الحراني نا يحيى بن عبد الله البابلتي نا أيوب بن نهيك الحلبي مولى آل سعد بن أبي وقاص قال: سمعت عطاء بن أبي رباح سمعت عبد الله بن عمر سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ‌إذا ‌مات ‌أحدكم ‌فلا ‌تحبسوه ‌وأسرعوا ‌به ‌إلى ‌قبره وليقرأ عند رأسه فاتحة الكتاب وعند رجليه بخاتمة البقرة في قبره.(شعب الإيمان،باب في الصلاة علی من مات من أهل القبلة، فصل في زيارة القبور،رقم الحديث:9293،ج:7،ص:16)

(ولا يستغفر فيها لصبي ومجنون) ومعتوه لعدم تكليفهم (بل يقول بعد دعاء البالغين: اللهم اجعله لنا فرطا) بفتحتين: أي سابقا إلى الحوض ليهيئ الماء، وهو دعاء له أيضا بتقدمه في الخير، لا سيما، وقد قالوا: حسنات الصبي له لا لأبويه بل لهما ثواب التعليم (واجعله ذخرا) بضم الذال المعجمة، ذخيرة (وشافعا مشفعا) مقبول الشفاعة.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب صلاة الجنازة،ج:3،ص:113)


فتویٰ نمبر : 10339/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں