بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چار تولہ سونے میں گزشتہ کئی سالوں کی زکوۃ ادا کرنے کا طریقہ


سوال

1993ء میں ایک عورت کی شادی ہوئی تھی، شوہر نے چار تولہ سونا بناکراس کو دیا تھا۔ شادی کے پانچ چھ مہینوں بعد وہ عورت سرکاری سکول میں بطورِ استانی مقررہوئی تھی۔ اس وقت کسی نے اس کو بتایا تھا کہ چار تولہ سونے پر زکوۃ فرض نہیں ہوتی، اس وجہ سے اس عورت نے سن 2000ء سے لیکر اب تک تقریباً پچھلے چوبیس سالوں میں اپنی ملکیت میں موجود چار تولہ سونے کے علاوہ صرف پیسوں کی زکوۃ ادا کی۔ جب کہ  پچھلےچوبیس پچیس سالوں میں چار تولہ سونے کی زکوٰۃ ادا نہیں کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب چار تولے سونے    کی زکوۃ جو اتنی سالوں سے ادا نہیں ہوئی ہے، کس حساب سے اور کس طریقے سے اداکی جائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص صاحب نصاب بن جائے تو اس پر ملکیت میں موجود سب اموالِ زکوۃ پر زکوۃ دینا ضروری ہے، لہذا اگر کوئی شخص صاحب نصاب بننے کے بعد بعض مال کی زکوۃ ادا نہ کرے، تو اتنی مقدار پر زکوۃ کی ادائیگی اس کے ذمے بدستور باقی رہتی ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی عورت نےصاحب نصاب ہونے کے باوجود گزشتہ کئی سالوں سے سونے کی زکوۃ ادانہ کی ہو، تو اتنے سالوں کے سونے کی زکوۃ اس کے ذمے باقی ہے۔ اوراس کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ جس سال سے سونے کی زکوۃ ادا نہیں کی ہے پہلے اس سال میں موجود سونے کی قیمت معلوم کرلی جائے اور پھراس میں جتنی زکوۃ واجب ہوتی ہے اس سے اس سال کی زکوٰۃ اداکرلی جائے، پھر زکوۃ کی ادا شدہ رقم کل مالیت سے منفی کی جائے، جتنی باقی بچ جائے، اس پر جتنی زکوۃ واجب ہوتی ہے، اس سےدوسرے سال کی زکاۃ ادا کی جائے اور پھر اسی ترتیب سے ہرسال کی زکوۃ ادا کر لی جائے۔

 

وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا ‌يوم ‌الاداء.وفي السوائم ‌يوم ‌الاداء إجماعا، وهو الاصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه، ولو في مفازة ففي أقرب الامصار إليه، فتح.(الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الزكاة، باب زكوة الغنم، ص:130)


فتویٰ نمبر : 10333/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں