بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قسطوں کی مکمل ادائیگی سے پہلے مبیع میں نقصان آنا


سوال

    اگر کوئی شخص قسطوں پر گاڑی خریدے اور قسطوں کی ادائیگی مکمل ہونے سے پہلے ہی خریدنے والے کا بھائی گاڑی ایکسیڈنٹ کرے جس سے گاڑی کو نقصان پہنچے، تو کیا اس نقصان کی ذمہ داری گاڑی بیچنے والے پر عائد ہو گی یا خریدنے والے پر؟

جواب

واضح رہے کہ بیع ایجاب و قبول کے بعد مکمل ہو جاتی ہے اور مبیع بائع کی ملکیت سے نکل کرمشتری کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے، چاہے بیع نقد ہو یا قسطوں پر، اس کے بعد مبیع کو جو بھی نقصان پہنچے گا وہ مشتری (خریدنے والے)پر ہو گا فروخت کرنے والے پر نہیں۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص  کسی سے قسطوں پر گاڑی خریدے اور قسطوں کی ادائیگی مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو جائے، تو اس نقصان کی ذمہ داری مشتری (خریدنے والے)پر ہو گی۔

 

وإذا ‌حصل ‌الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية.(الهداية، كتاب البيوع، ج:3، ص:23)

المبيع ‌إذا ‌هلك‌ في ‌يد‌ البائع قبل أن يقبضه المشتري يكون من مال البائع ولا شيء على المشتري. إذا هلك المبيع بعد القبض هلك من مال المشتري ولا شيء على البائع.(مجلة الأحكام العدلية، ‌‌الباب الخامس: في بيان المسائل المتعلقة بالتسليم والتسلم، ‌‌الفصل السادس: فيما يتعلق بسوم الشراء وسوم النظر، ص:59، المادة: 293،294)


فتویٰ نمبر : 3700/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں