بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

عاریت پر دی گئی موٹر سائیکل کا ہلاک ہو نا


سوال

میں نے اپنے ایک دوست کو موٹر سائیکل دی تھی  کہ وہ اس  سے اپنا کام چلاتا رہےایک دن  اس نے ایک مسجد میں موٹر سائیکل کھڑی کر دی  اور موٹر سائیکل چوری ہو گئی،تو  کیا میں اس سے تاوان لے سکتا ہوں یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ  عاریت میں دی ہوئی چیز امانت کے حکم میں ہوتی ہے ،اگر وہ ہلاک ہو جائے تو اگر ہلاک ہونے میں عاریت پر لینے والے کا کوئی عمل دخل نہ ہو اور اس کی حفاظت میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی بھی نہ کی ہو تو ا اس پرضمان  نہیں آئے گا ، لیکن اگر وہ اس کی غفلت و کوتاہی یا تعدی کی وجہ سے ہلاک ہوجائے تو اس  پر ضمان لازم ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل کے دوست نے موٹر سائیکل باحفاظت کھڑی کر دی تھی اور اپنی طرف سے اس کے تحفظ کا ممکنہ بندوبست کر دیا تھا   ،لیکن وہ چوری ہوگئی ،تو سا ئل اس سے تاوان نہیں لے سکتا،البتہ اگر  اس نے موٹر سائیکل کی حفاظت میں ٖغفلت وکوتاہی سےکام لیا ہو ،تو اس پر تاوان ادا کرنا لازم ہے ۔

 

‌"والعارية ‌أمانة: إن هلكت من غير تعد لم يضمن شيئا".(الفتاوى الهندية، كتاب العارية، الباب الثاني الألفاظ التي تنعقد بها العارية، ج:4، ص:363)

"فلو حصل من المستعير تعد أو تقصير بحق العارية ثم هلكت أو نقصت قيمتها فبأي سبب كان الهلاك أو النقص أي سواء كان بتعد وتقصير أم بسبب آخر أم ماتت الدابة حتف أنفها يلزم المستعير الضمان؛ لأن المستعير لما أصبح في حكم الغاصب فقد تحولت يد أمانته إلى يد ضمان. أي أنه يلزم ضمان مثل العارية إذا كانت من المثليات وقيمتها تامة إذا كانت من القيميات وقيمة النقصان فقط في حال النقصان".(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام،الباب الثاني في العارية، المادة:814 ج:2، ص:350)


فتویٰ نمبر : 3693/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں