بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

ذبح کے بعد رگوں میں باقی رہنے والے اور گوشت پر لگے خون کا حکم


سوال

جانور کو ذبح کرنے کے بعد جو خون رگوں میں باقی رہ جاتا ہے یا گوشت پر لگا ہوتا ہے، اس خون کا حکم کیا ہے،کیاوہ نجس (ناپاک) ہے یا نہیں؟

جواب

جانور کو ذبح کرنے کے بعد جو خون رگوں میں باقی رہ جاتا ہے یا گوشت پر لگا ہوتا ہے، وہ بہنے والے خون (دم مسفوح) میں داخل نہیں ، لہذا وہ نجس (ناپاک) نہیں ۔

 

"وما يبقى من الدم في عروق الذكاة بعد الذبح لا يفسد الثوب وإن فحش. كذا في فتاوى قاضي خان وكذا الدم الذي يبقى في اللحم؛ لأنه ليس بمسفوح. هكذا في محيط السرخسي."(الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسات، وأحكامها، الفصل الثاني في الأعيان النجسة، ج:1، ص:46)

الدم الملتزق باللحم إن كان ملتزقا من ‌الدم ‌السائل بعدما سال كان نجسا، وإن لم يكن ملتزقا من ‌الدم ‌السائل لم يكن نجسا." (المحيط البرهاني،‌‌كتاب الطهارات، ‌‌الفصل السابع في النجاسات وأحكامها، ج: 1،ص:  189)


فتویٰ نمبر : 10322/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں