بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

پاک وناپاک کپڑوں کو ایک ساتھ دھونا


سوال

اگر کپڑے یا چادر پر کچھ ناپاکی(منی)لگی ہو اور گھر والے   اسے  واشنگ مشین میں پاک کپڑوں کے ساتھ ملاکر دھولیں ،تو کیا پاک کپڑے بھی ناپاک ہو جائیں گے اور  اگر مشین سے نکالنے کے بعد  تمام کپڑے کھنگال دیں ،اور کپڑے پر ناپاکی کا کوئی اثر باقی نہ رہےتو ان تمام کپڑوں کا کیا حکم ہے؟نیز آٹو میٹک واشنگ مشین میں  ان کپڑوں کی پاکی کی کیا صورت ہو گی؟

جواب

اگر ناپاک کپڑوں کو پاک کپڑوں کے ساتھ ملاکر واشنگ مشین یا ٹب وغیرہ میں دھویا   جائے تو اس سے وہ پاک  کپڑے بھی ناپاک ہوجائیں گے، البتہ اگر  مشین سے نکالنے کے بعد تین مرتبہ پاک پانی میں اچھی طرح  کھنگال کر ہر بار نچوڑدیاجا ئےیا مسلسل اتنا صاف  پانی بہایا جائے  کہ کپڑوں پر ناپاکی کا کوئی اثر باقی نہ رہے اور غالب گمان ہوجائے کہ کپڑے پاک ہوگئے ہیں تو ایسا طریقہ اپنانے  سے سارے کپڑے پاک ہوجائیں گے ۔

چونکہ آٹومیٹک واشنگ مشین میں خود کار طریقے سے پانی کے ذریعے کپڑے اچھی طرح کھنگالے جاتے ہیں اور مشین کئی بار صاف پانی لے کر انہیں کئی بار نچوڑتی اور صاف کرتی ہے، چنانچہ اس صورت میں اگر ناپاک کپڑےپاک کپڑوں کے ساتھ ڈال دیے جائیں ،اور انہیں اس طرح دھویا جائے کہ تین مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ کپڑے دھلیں، اور ہر مرتبہ اس میں صاف اور پاک پانی استعمال ہوتاہو اور ہر مرتبہ  کپڑوں  سے مشین کے ذریعہ پانی نچڑ جائے اور ان کی پاکی کا غالب گمان ہو جائےتو اس صورت میں دھلنے کےبعد سب  کپڑے پاک  شمار ہوں  گے۔

 

(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد به يفتى.(وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر) مبالغا بحيث لا يقطر....وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار.....أقول: لكن قد علمت أن المعتبر في تطهير النجاسة المرئية زوال عينها ولو بغسلة واحدة ولو في إجانة كما مر، فلا يشترط فيها تثليث غسل ولا عصر، وأن المعتبر غلبة الظن في تطهير غير المرئية بلا عدد على المفتى به أو مع شرط التثليث على ما مر.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1، ص:331)


فتویٰ نمبر : 10321/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں