بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طلاق نامہ پر دستخط کرنا


سوال

میں نے دو شادیاں کی ہیں دوسری شادی  میں نے پہلی بیوی سے چپ کر کی ،اور نہ میں اس کو ظاہرکرنا چاہتاتھا،لیکن بعد میں ان کو کسی ذریعے سے میری دوسری شادی کے بارے میں علم ہوا تو گھر میں کہرام سامچ گیا یہاں تک کہ میری پہلی بیوی نے مجھ سے کہا کہ میں اب خود کشی کروں گی لیکن اس کو کسی طرح سے منایا لیکن اس نے کہا کہ اب اپنی دوسری بیوی کو طلاق دو گے میں نے کہا کہ ذرا صبر کرو حالات ابھی طلاق دینے کے لیے ساز گار نہیں کیونکہ کاروباری مسائل ایسے تھے کہ میں اس کو طلاق دینے کے موڈ میں نہیں تھا لیکن بعد میں ایسا ہو اکہ انہوں نے طلاق کے لیے ایک سٹامپ پیپر تیار کیا اور ان سے مجبور ہوکر میں نے اس پر دستخط کیالیکن میں نے منہ سے طلاق کے الفاط نہیں کہے،کچھ دنوں بعد میری پہلی بیوی نے میرے دادمادکے ذریعے ایک اور سٹامپ پیپر  تیار کیا کیونکہ  اس کو پہلے سٹامپ پیپر پر یقین نہیں تھا اور اس میں طلاق کے حوالے سے اس طرح الفاظ  لکھے گئے  تھے "فریق اول (شوہر) نے اپنی  بیوی فریق دوم (دوسری بیوی )کو مورخہ 2024۔11۔8کو اپنے عقل و ہوش و حواس میں بلا اشتعال  بغیر کسی دباؤ کے طلاق ،طلاق ،طلاق  بہ زبان دی ہے"میں نے اس پر بھی ان سے مجبور ہوکر دستخط کیا لیکن اس وقت بھی میں نے طلاق کے الفاظ نہیں بولے لیکن میں نے اپنی بیوی اور بیٹوں سے کہا کہ آپ نے یہ سٹامپ پیپر میری دوسری بیوی  کو ابھی نہیں دینا،لیکن انہوں کسی کے ذریعے اس تک پہنچا دیا تو میری دوسری بیوی نے  مجھ سے پوچھا کہ یہ سٹامپ پیپر آپ نے لکھوایا ،تو میں نے کہا کہ میں تو اس سے بے خبر ہوں  لیکن مجھے غصہ آیا اور گھر آکر پہلی بیوی سے کہا کہ" میرا دل چاہتا ہے کہ جس طرح اس کو طلاق دی ہے اس طرح آپ کو بھی دوں  "اور یہ الفاظ میں نے ایک دفعہ بولےسوالات یہ ہیں:

1:اگر کوئی شخص اپنی پہلی  بیوی سے محبت کی وجہ  سےمجبور ہو کرالفاظ ِطلاق کہے بغیر  سٹامپ پیپر پر دستخط کرے تو کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو گی یانہیں ؟

2: مہر میں درجہ ذیل چیزیں لکھی گئی ہیں :

الف:پنڈی میں میرا ایک گھر ہے اس کا چوتھائی حصہ

ب:50ہزرا نقد پیسے جو میں دے چکا ہوں

ج:پانچ تولہ سونا اس کے لیے بنایا تھا پھر کاروباری حالات ایسے تھے کہ مجھے وہ بیچنا پڑا وہ دیناپڑا وہ دینا باقی ہے

مہر دینے کا طریقہ کا کیا ہوگا؟

3:آخر میں پہلی بیوی کے سامنے جو الفاظ کہے ان سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

سوالنامہ میں ذکر کردہ سوالات کے جوابات مندرجہ ذیل ہیں:

1:جس طرح زبان سے طلاق کے الفاظ کہنے سے طلاق واقع ہوتی   ہے اسی طرح کسی کاغذ پر طلاق  کے الفاظ لکھنے یا اس  پر دستخط کر نے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے البتہ اگر تحریر کی صورت میں طلاق دینے پر کسی کو اس طرح مجبور کیا جائےجس میں جان جانے یا عضو تلف ہونے کا یقین ہواوروہ جبر واکراہ کی وجہ سے تحریر کے ذریعے طلاق دےدے یا دستخط کرےاور زبان سے نہ بولے   تو طلاق واقع نہ ہوگی  البتہ اگر ایسی کوئی مجبوری نہ ہو تو  طلاق واقع ہوگی لہذا  صورت مسئولہ میں سٹامپ پیپر پر لکھے گئے طلاق کے الفاظ  پر دستخط سےتین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اس لیے دوسری بیوی شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام  ہے۔

2:مہر بیوی کا حق ہے جو کہ شوہر پر دینا لازم ہے لہذا مہر میں مقرر شدہ چیزیں شوہر پر دینا لازم ہے اس ليےمہر میں شوہر نے بیوی کوجو چیزیں  حوالہ کیں ان سے ذمہ فارغ ہو چکا ہے اور جو چیزیں ابھی تک نہیں دیں وہ شوہر کے ذمے قرض ہے لہذاشوہر پر ان کا دینا لازم ہے۔

3:غصے کی حالت میں  گھر آکر پہلی بیوی کو یہ کہنا  کہ" میرا دل چاہتا ہے کہ جس طرح اس کو طلاق دی ہے اس طرح آپ کو بھی دوں   " محض  مستقبل  میں طلاق دینے کی دھمکی ہےجس سے پہلی  بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

 

 وقيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا۔كذا في الخانيةوفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع۔(البحرالرائق، کتاب الطلاق،ج:3،ص:429)

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته۔(الفتاوی الهندية،كتاب الطلاق،الباب الثاني،الفصل السادس،ج:1ص:446)

عن حماد، قال: " ‌إذا ‌كتب ‌الرجل إلى امرأته: إذا أتاك كتابي هذا، فأنت طالق، فإن لم يأتها الكتاب، فليس بطالق فإن كتب: أما بعد، فأنت طالق " قال ابن شبرمة: «فهي طالق». (المصنف لابن أبي شیبة، کتاب الطلاق، باب في الرجل یکتب طلاق امرأته بیده،ج:9،ص:542 رقم:8304)

وإن كانت مرسومةً يقع الطلاق نوى أو لم ينو. (ردالمحتار علی الدر المختار،ج:3،ص:246)

(وأما) (أنواعه) ‌فالإكراه ‌في ‌أصله ‌على ‌نوعين إما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجئ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء والإكراه الذي هو غير ملجئ هو الإكراه بالحبس والتقييد.(الفتاوی الهندية، الباب الأول في تفسير الإكراه وأنواعه وشروطه وحكمه،ج:5،ص:35)

"وفي البحر: أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لاتطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية". (ردالمحتار علی الدر المختار،ج:3،ص:236)

فقال الزوج أطلق (طلاق می کنم) فکرره ثلاثاً طلقت ثلاثاً بخلاف قولہ: سأطلق (طلاق می کنم) لأنه استقبالٌ فلم یکن تحقیقا بالشک(الفتاوی الهندیة،كتاب الطلاق،ج:1،ص:384)


فتویٰ نمبر : 7097/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں