بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

قرض پر نفع لینا


سوال

ایک شخص کو سامان کی ضرورت ہے لیکن اس کے پاس نقد رقم نہیں ہے سامان 10 ہزار روپے کا ہے دوسرا شخص اس سے کہتا ہے کہ تم سامان خرید لو میرے پاس نقد رقم ہے اس کی قیمت  میں ادا کردوں گا ، البتہ مجھے ادائیگی کے وقت  مزید نفع دو گے تو اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قرض دینے والا اگر قرض میں کوئی ایسی شرط لگائے جس کی وجہ سے اس کو فائد ہ ہو تو اس طرح معاملہ کرنا سود کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  عقد  کے وقت خریدار کی جگہ اگر دوسرا شخص رقم  اداکرےتویہ اس کا خریدار کے ذمے  قرض شمار ہوگا، چنانچہ اگروہ اس قرض رقم پر مزید نفع حاصل کرے، تو وہ سود ہوگا، جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔

 

قال الله تعالیٰ:﴿وأحل الله البيع وحرم الربوا﴾(البقرة:275)

‌"(وأما) ‌الذي ‌يرجع ‌إلى ‌نفس ‌القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا»؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض"۔(بدائع الصنائع، كتاب القرض، فصل فى الشروط، ج:10، ص:697)


فتویٰ نمبر : 3697/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں