بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

مستحق زکوۃ کو دی گئی رقم پر عمرہ کے لیے بھیجنا


سوال

اگر کوئی شخص کسی مستحق کو زکوۃ کی رقم  کا مالک بنائے پھر  مستحق  شخص   کا   عمرہ کرنے  کا ارادہ   ہو لیکن اس کے پاس پیسے کم ہوں  تو مزکی اس سے وہ رقم لے کر  کچھ اپنی طرف سے ہدیہ کی رقم ملاکر  اس کو عمرہ پر بھیجوائے،تو پوچھنا یہ ہے کہ   کیا  مستحق  کو جو زکوۃ  کی رقم دی ہے اس سے مزکی کی زکوۃ ادا ہوگئی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مستحق زکوٰۃ کو مالک بنانا ضروری ہے، مالک بنانے کے بعد پھراس کی مرضی ہے کہ وہ  اس رقم کو جس کام میں بھی  خرچ کر ے، البتہ اگر مستحق زکوۃ کو مالک نہ بنایا گیا ہو تو مالک بنائے بغیر زکوۃ کی ادائیگی سے ذمہ فارغ نہیں ہوتا۔

صورت مسئولہ میں اگر مستحق کو زکوٰۃ کا مالک بنادیا جائے اور وہ اپنی مرضی سے اس کو عمرہ کے لیے واپس مزکی کو دے تو زکوۃ دینے والے کی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔

 

"ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة"۔(الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الزكوة، باب المصرف، ج:3، ص:291)

"وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره لم أره والظاهر نعم"۔(الدر المختار ،کتاب الزکوۃ،باب المصرف ،ج:3، ص:293)

"وقال ابن نجيم: والحيلة۔۔۔أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه، فيكون لصاحب المال ثواب الزكوة، وللفقير ثواب هذه القرب"۔(البحر الرائق، كتاب الزكوة، باب المصرف، ج:2، ص:424)


فتویٰ نمبر : 10326/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں