بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

ٹریول ایجنسی والوں کا عمرہ زائرین سے رقم لے کر کاروبار میں ڈالنا اور حاصل شدہ منافع سے عمرہ کے لیے بھیجنا


سوال

 ہمارا یک ادارہ ہے ہم لوگوں سے عمرہ کی مد میں ایک لاکھ روپے لیتے ہیں ،اور اس رقم سے اس کو ایک سال کے اندر اندر عمرہ کرواتے ہیں،حالانکہ اس وقت عمرہ کی قیمت ایک لاکھ اسی ہزار روپے ہوتی ہے،ہم چونکہ اس رقم کو کاروبار میں ڈا لتے ہیں  اور اس سے جو نفع آتا ہے اس  سے لوگوں کو عمرہ کے لیے بھیجتے ہیں ،تو کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ ٹریول ایجنسی والوں کا عمرہ زائرین سے ٹکٹ ،ویزا   وغیرہ  مختلف خدمات کے بدلے پیسے لینے کی شرعی حیثیت اجارہ کی ہے، کیونکہ اس کے عوض  ویزہ،سفر،اور رہائش وغیرہ کے منافع دیئے جاتے ہیں ،عقد اجارہ میں شرعا  یہ ضروری ہے کہ منافع کی نوعیت و مقدار مدت اور اجرت عاقدین کے درمیان اس طور پر متعین کیا جائے کہ باہمی تنازع کا امکان نہ رہے ۔

صورت مسئولہ میں اگر ادارہ  ایک لاکھ روپے لے کر متعین  مدت کے اندر سفر عمرہ کے متعین منافع(مثلا:ویزہ،ٹکٹ،رہائش وغیرہ)فراہم کرنے کا باقاعدہ عقد کرے تو شرعا یہ جائز ہو گا،کیونکہ اس صورت   میں وصول کی گئی رقم کی حیثیت اجرت کی ہو گی،تاہم ادارہ پر لازم ہو گا کہ اسی رقم میں  طے شدہ تمام منافع فراہم کرے چاہے اس رقم سے ادارہ کو نفع حاصل ہو جائے یا نہیں ،اور اگر ادارہ ایک لاکھ روپے لے کر عمرہ  کروانے کا صرف  وعدہ کرے باقاعدہ عقد نہ کرے تو ایسی صورت میں اس رقم کی حیثیت قرض کی ہو گی،اور قرض خواہ کے  لیے قرض پر منافع لینا سود ہے،اس وجہ سے اس رقم کے عوض عمرہ  کروانے کا وعدہ چونکہ قرض خواہ کے حق میں اپنے قرض پر منافع وصول کرنا ہے اس وجہ سے یہ  معاملہ شرعا جائز نہ ہو گا۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ اس طرح  کے معاملات میں فراڈ اور دھوکہ دہی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ،اس لیے ایسے معاملات سے بچنا چایئے۔

 

قال النبي صلى الله عليه وسلم ‌:الخديعة ‌في ‌النار ومن عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد۔(صحيح البخارى،باب النجش،ج:3ص:69)

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا ‌ضرر ‌ولا ‌ضرار۔(سنن ابن ماجه،كتاب الأحكام،باب من بنى في حقه ما يضر بجاره،ج:2ص:784)

وقد «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ‌قرض ‌جر ‌نفعا» وقيل هذا إذا كانت المنفعة مشروطة وأما إذا لم تكن فلا بأس بذلك.(دررالحکام شرح غرالأحکام،کتاب المضاربة،ج:2ص:310)

الإجارة...(هي) لغة: اسم للاجرة۔۔۔وشرعا: (‌تمليك ‌نفع).مقصود ‌من ‌العين (بعوض).(الدرالمختار،کتاب الإجارة،ج:6ص:569)


فتویٰ نمبر : 3696/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں