بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ماہانہ تنخواہ دے کر کسی کو جہاد یا تبلیغ کے لیے بھیجنا


سوال

کسی کو بطور اجارہ یعنی باقاعدہ  ماہانہ تنخواہ دےکر اپنی طرف سے جہاد یا تبلیغ کےلیے بھیجنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص جہاد کے لیے جارہا ہو تو اس کے ساتھ مالی مدد کرنااور اس کے اہل وعیال کی خبر گیری کرناباعثِ اجروثواب  ہے،احادیث میں اس کی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے اور اس کو جہاد میں شرکت کے برابر قرار دیا گیا ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ:"جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے غازی کی تیاریوں میں ہاتھ بٹائے گا تو گویا وہ بھی جہاد میں شریک ہوا اور جو شخص غازی کے پیچھے اس کے اہل وعیال کی اچھی خبر گیری کرے گا تو گویا وہ بھی جہاد میں شریک ہوا"، دوسری جگہ ارشاد فرمایا:" جہاد کرنے والے کو اس کے جہاد کا اجر ملے گا اور مجاہد کو تیار کرنے والے کو تیار کرنے اور جہاد کرنے دونوں کا اجر ملے گا"، جہاں تک مجاہد کی تنخواہ کا تعلق ہےتوحضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نےاپنےدور ِخلافت میں مختلف طبقات و عمال کےلیےوظائف اورتنخواہیں مقرر کی تھیں تاکہ اس سے ان لوگوں کے گھروں کی ضروریات پوری ہوسکے، لہذا بیت المال سےمجاہدین کے لیے باقاعدہ تنخواہیں مقرر کرنادرست ہے۔البتہ مجاہد کے لیے بحیثیت اجیر کسی کی طرف سےجہاد میں جانے کے عوض اجرت لینا جائز نہیں، اس لیے کہ اس میں نیت اللہ تعالیٰ کی رضا نہیں جو جہاد کا اصل مقصد ہے بلکہ مقصد حصول مال ہے، اسی طرح اپنی طرف سے بطور اجارہ کسی کو جہاد کے لیے بھیجنا بھی جائز نہیں۔

تبلیغ میں نکلنا مباح اورمستحب کے درجہ میں ہے، نکلنے میں ثواب ملے گا، نہ نکلنے میں گناہ نہیں، لیکن اپنی طرف سے بطور اجارہ کسی کو جہاد یا تبلیغ کے لیے بھیجنا اور تنخواہ دینا درست نہیں، اور نہ ہی اس پر اجرت لینا جائز ہے، البتہ اگر بطور تعاون ان کو کچھ دیا گیا تو باعث ثواب ہے۔

 

"عن زيد بن خالدالجهني، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه قال: " من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلفه في اهله بخير فقد غزا."(الصحيح لمسلم، كتاب الإمارة، باب فضل إعانة الغازي في سبيل الله بمركوب وغيره و خلافته في أهله بخير، رقم الحديث:4902)

"عن عبد الله بن عمرو، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌للغازي ‌أجره، ‌وللجاعل ‌أجره، وأجر الغازي»."(سنن أبي داؤد، باب الرخصة في أخذ الجعائل، رقم الحديث:2526)

"فلما كان عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنه، وجاءت الفتوح فضل، وقال: لا أجعل من قاتل رسول الله صلى الله عليه وسلم كمن قاتل مع؛ ففرض لأهل السوابق والقدم من المهاجرين والأنصار ممن شهد بدرا خمسة آلاف خمسة آلاف، ولمن لم يشهد بدرا أربعة آلاف أربعة آلاف، وفرض لمن كان له إسلام كإسلام أهل بدر دون ذلك، أنزلهم على قدر منازلهم من السوابق."(کتاب الخراج لأبي يوسف، مفاضلة عمر رضي الله عنه بين الناس في القسمة، ص53)

"وإذا ‌أراد ‌قوم من المسلمين أن يغزوا أرض الحرب ولم تكن لهم قوة ولا مال فلا بأس بأن يجهز بعضهم بعضا ويجعل القاعد للشاخص وقد بينا ذلك في حديث عمر - رضي الله عنه - والمعنى فيه أن الجهاد بالنفس تارة وبالمال أخرى والقادر على الخروج بنفسه يحتاج إلى مال كثير ليتمكن به من الخروج وصاحب المال يحتاج إلى مجاهد يقوم بدفع أذى المشركين عنه وعن ماله فلا بأس بالتعاون بينهما والتناصر ليكون القاعد مجاهدا بما له والخارج بنفسه "والمؤمنون كالبنيان يشد بعضهم بعضا...ثم دافع المال إلى الخارج ليغزو بما له يعينه على إقامة الفرض وذلك مندوب إليه في الشرع وإن كانت عندهم قوة أو عند الإمام كرهت ذلك أما إذا كان في بيت المال فذلك المال في يد الإمام معد لمثل هذه الحاجة فعليه أن يصرفه إليها ولا يحل له أن يأخذ من المسلمين شيئا لاستغنائه عن ذلك بما في يده وكذلك إن كان الغازي صاحب مال فلا حاجة به إلى الأخذ من غيره وتمام الجهاد بالمال والنفس ولأنه لو أخذ من غيره مالا فعمله في الصورة كعمل من يعمل بالأجرة فلا يكون ذلك لله تعالى خالصا."(المبسوط للسرخسي، كتاب السير، باب معاملة الجيش مع الكفار، فصل يعطي الإمام أبا الغازي شيئا، ج:10، ص:84)


فتویٰ نمبر : 3698/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں