بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 20/10/2026 |
دارالافتاء
معذور کے لیے وضو کا حکم
سوال
میں بچپن سے ہی معدے کی مریض ہوں ،مجھے اکثر ہی دست لگ جاتے تھے، پانچ سال ہوگئے علاج کے لیے، ڈاکٹر، حکیم، ہومیوپیتھی ڈاکٹر سب کو دکھایا لیکن علاج سے بیماری اس قدر بڑھ گئی تھی کہ جو بھی کھاتی تھی قے آجاتی تھی، تقریباً ایک سال ایسے ہی گزرا کہ شدید قبض اور دن میں کئی بار قے آتی تھی، ایک بار علاج کروایا تو قے میں خون کے لوتھڑے آئے، خیر علاج بند کروادیا تھا، تو گھریلو ٹوٹکے سے قے وغیرہ آہستہ آہستہ کم ہوگئی اور قبض میں بھی بہتری آئی، یہ سب بتانے کا مقصد کہ میرا معدہ بچپن سے ہی کمزور اور دوائیوں سے مزید کمزور ہوچکا ہے، معدے کی بیماری کی وجہ سے مجھے گیس کا بہت مسئلہ تھا یہ زیادہ ٢٠٢٠ میں ہوا جب علاج چل رہا تھا، میں کئی بار وضو کرتی تھی لیکن گھر والے مجھے کہتے تھے بیٹا ایک بار وضو کر کے ہی پڑھ لیا کرو تو تقریباً بیماری میں ایک سال میں ایک وضو سے نماز پڑھتی رہی کیونکہ ہوا بہت خارج ہوتی تھی ۔پھر ایک سال بعد مجھے بہت شرمندگی ہوئی تو اللہ سے توبہ کی کہ آئندہ پروپر وضو سے نماز پڑھوں گی۔ پھر ایک سال پروپر وضو سے نماز پڑھنے کی پوری کوشش کی، تین سے چار بار وضو کرنا ہر بار ہر نماز کے لیے عمومی بات تھی، سات سے آٹھ بار بھی نمازوں کے لیے وضو کرتی تھی، کئی بار عشاء کی نماز بار بار وضو کے باوجود نہیں پڑھی جاتی تھی پھر تہجد میں اٹھ کے بھی کئی بار وضوکرتی تو بمشکل ہی فرض پڑھ پاتی، اتنی بیمار ہوگئی کہ کرسی پہ بیٹھ کر نماز بھی پڑھتی تھی کیونکہ کھڑے ہوتی تو فوراً وضو ٹوٹ جاتا تھا۔ شدید ڈپریشن کا شکار ہوگئی، بار بار وضو نے میری ذہنی حالت خراب کردی اور بار بار وضو سے مجھے مزید جسمانی امراض لگ رہی تھی، پھر میں نے ایک قرآن والی ٹیچر کو سب بتایا وہ فقہی مسائل بھی عالمہ سے پوچھ کے بتاتی ہے انہوں نے کہا آپ ایک وضو سے ہی نماز پڑھا کرو اور اس بارے میں مت سوچو،، اب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے تین مہینے اس سال ایک وضو سے فتویٰ پر عمل کیا،پھر لگا میں بہتر ہوگئی تو ایک مہینہ باربار وضو کیا پھر لگا کہ میں نہیں ٹھیک، بار بار وضو سے شدید تنگی اور ڈپریشن، دل چاہتا تھا نعوذبااللہ خود کو ختم کردوں پھر ٹیچر سے پوچھا تو انہوں نے کہا آپ ایک وضو سے پڑھا کرو، اب کوئی تین مہینے ہوگئے ایک وضو سے نماز پڑھتی ہوں لیکن دل مطمئن نہیں ہے، اللہ کے سامنے بہت شرمندگی محسوس کرتی ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب میں ایک وضو سے نماز پڑھتی ہوں تو اس عرصے میں کئی دن وضو قائم رہنےلگ جاتا ہے، کچھ دن قائم نہیں رہتا اور کبھی دو تین نمازیں پروپر وضو سے پڑھی جاتی ہیں اور کبھی دو تین نمازوں میں وضو خراب ہوجاتا ہے، یعنی مختلف حالتیں پیش آتی ہیں، اور اگر میں سوچتی ہوں کہ اب میں بہتر ہوں ٹھیک ہورہی تو میں ارادہ کرتی ہوں کہ پروپر وضو سے نمازوں کو ادا کروں تو اس سوچ کے بعد میرا اکثر وضو جلدی جلدی ٹوٹنے لگتا ہے۔۔۔ میں کیا کروں؟ میں ذہنی طور پر مفلوج ہوتی جارہی ہوں اس سٹریس میں۔۔۔میں نے کئی کئی مسائل پڑھ لیے ہیں اس کےمتعلق، میری سمجھ سے باہر ہے سب، مجھے ایک صاف بات بتادیں کہ میں نے ایک بار وضو کرنا ہے یا بار بار وضو کرنا ہے؟
جواب
اگر کسی شخص پر کسی بھی فرض نماز کامکمل وقت حالت عذر میں گز ر جائے اور اس میں نماز پڑھنے کی فرصت نہ ملے تو وہ ہر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد وضو کرکے وقت کے اندر فرض و نفل نماز ادا کرسکتا ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ پر معذور کا حکم جاری ہوگا ،لہذانماز کا وقت داخل ہونے کے بعد وضو کیا کرے ،اس وضو سے فرض ونفل تمام نمازیں پڑھ سکتی ہے،وقت کے اندر ہوا خارج ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔البتہ وقت ختم ہونے کے ساتھ وضو ٹوٹ جائےگا،اس لیے اگلی نماز کا وقت داخل ہو تو دوبارہ وضو کرے گی۔
والمستحاضة ومن به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذي لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة فيصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل....فإن توضئوا حين تطلع الشمس أجزأهم عن فرض الوقت حتى يذهب وقت الظهر....والمراد بالوقت وقت المفروضة حتى لو توضأ المعذور لصلاة العيد له أن يصلي الظهر به عندهما وهو الصحيح.(الهداية، كتاب الطهارات، باب الحيض والاستحاضة، ج:1، ص:66،65)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں