بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

نسبتی نام رکھنا


سوال

اگر کوئی شخص  اپنے  نام  کے ساتھ کوئی نسبتی نام  لگانا  چاہے  تو کیا  نسبتی  نام لگانا  شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

نسبتی نام سے نسل و نسب یا  علاقہ  کے ساتھ  تعلق  ظاہر کرنا مقصود ہوتو اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں ۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنے نسب یا قبیلہ کی بجائے  دوسرے اعلیٰ نسب  یا قبیلہ کی طرف نسبت کرے تو یہ   شرعاً نا جائز ہے ۔  رسول اللہ ﷺ نے  اس سے منع فرمایا ہے۔ارشاد ہے:"جو  اپنی نسبت اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف کرے اور  وہ جانتا ہو  کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے "۔

 

عن سعد رضي الله عنه قال:سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (‌من ‌ادعى ‌إلى ‌غير ‌أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام).( صحيح البخاري، كتاب الفرائض، باب: من ادعى إلى غير أبيه،رقم الحديث:٦٣٨٥)

أي: ‌انتسب ‌لغير ‌أبيه رغبة عنه مع علمه به. وهذا إنما يفعله أهل الجفاء والجهل والكبر؛ لخسة منصب الأب ودناءته؛ فيرى الانتساب إليه عارا ونقصا في حقه. ولا شك في أن هذا محرم معلوم التحريم.(المفهم (شرح صحيح مسلم)، كتاب الإيمان، باب إثم من كفر مسلما أو كفر حقه،ج:١،ص:٢٥٤)


فتویٰ نمبر : 6174/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں