بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

نکاح کے موقع پر چھوہارے اچھالنا


سوال

نکاح  کے موقع پراکثر لوگ  چھوہارے اچھالتے ہیں  اور کہتے ہیں کہ یہ عمل سنت  ہے، تو کیا نکاح کے دوران چھوہارے اچھالنا  سنت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے موقع پر چھوہارے اچھالنا  یا بکھیرنا ایک سنت عمل ہے، امام بیہقیؒ نے اپنی کتاب "السنن الكبرى للبيہقي" میں ایک حدیث نقل کی ہے "سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں  کہ  جب آپ ﷺ کسی  کی شادی کراتے یا آپ خود شادی کرتےتو آپ پر کھجوریں  بکھیرتے"۔ اور  دوسری روایت میں ہے  "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعض ازواج سے شادی کی تو آپ پر کھجوریں  بکھیری گئیں"۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق نکاح کے موقع پر چھوہارے اچھالنا یا بکھیرنا سنت عمل ہے۔

 

عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم " ‌إذا ‌زوج ‌أو ‌تزوج ‌نثر ‌تمرا ".(السنن الكبرى للبيهقي، كتاب الصداق، باب ما جاء في النثار في الفرح، رقم الحديث:14683)

عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم " ‌تزوج ‌بعض ‌نسائه ‌فنثر ‌عليه ‌التمر".(السنن الكبرى للبيهقي، كتاب الصداق، باب ما جاء في النثار في الفرح، رقم الحديث:14797)


فتویٰ نمبر : 7099/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں