بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

دوران عدت اپنے محارم اور غیر محارم سے پردہ کرنا


سوال

اگر کسی عورت کا شوہر فوت ہوجائے تو دوران عدت  کن  محارم سے پردہ کرنا لازم ہے اور کن سے نہیں؟

جواب

 شریعت مطہرہ میں عورتوں  کے لیے پردہ  نہ کرنے کی رخصت صرف ان مردوں سے ہے، جن کو اللہ تعالی نے محرمات میں ذکر کیا ہے، خواہ عورت عدت میں  ہو یاعدت میں  نہ ہو، پردے کے احکامات عدت سے متاثر نہیں ہوتے۔ جن مردوں  سے عام حالات میں پردے کا حکم ہےوہی حکم عدت کے دوران بھی ہوگا۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ﴾.(سورة النساء: 24)

قال الله تعالى:﴿وَلَا يبْدِينَ زِينَتهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يبْدِينَ زِينتهُنَّ إِلَّا لِبعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴾.(سورة النور:31)


فتویٰ نمبر : 7094/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں