بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

شراب پینے سے حد جاری ہونے اور پيشاب پینے سے حد جاری نہ ہونے کی وجہ


سوال

شراب اورپیشاب دونوں حرام ہیں، لیکن شراب کے پینے پر حد لازم ہے بخلاف  پیشاب کے، اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب

حدود کی مشروعیت کا بڑا مقصد معاشرے سے فساد کو ختم کرنا ہے۔ جن حرام چیزوں کی طرف انسان اپنی نفسانی خواہشات اور شہوات کی تکمیل اور لذتوں کے حصول کے لیے مائل ہوتا ہے، جیسے شراب پینا، زنا کرنا، چوری کرنا وغیرہ، ان جرائم کی روک تھام کے لیے شریعت مطہرہ میں حدود مقرر کی گئی ہیں، جب کہ وہ جرائم جن کی طرف انسان طبعاً بھی مائل نہیں ہوتا، بلکہ ان سے نفرت کرتا ہے ان پر حدود مقرر کرنے کی ضرورت نہیں، پیشاب پینا بھی ایسی ہی معصیت ہے کہ اگر چہ یہ حرام ہے، لیکن پیشاب پینے کی طرف انسانی فطرت مائل نہیں ہوتی، بلکہ اس سے انسان کو گھن آتی ہے، اس وجہ سے پیشاب پینے والے  کےلیے کوئی حد مقرر نہیں۔

 

(و) في الشرع (هي ‌عقوبة ‌مقدرة ‌وجبت حقا لله تعالى) وفيها معنى اللغة على ما بينا، والقصاص لا يسمى حدا لأنه حق العباد، وكذا التعزير لأنه ليس بمقدر ثبتت شرعيته بالكتاب والسنة. أما الكتاب فقوله تعالى: {الزانية والزاني} [النور: 2] الآية، وقوله تعالى: {والسارق والسارقة} [المائدة: 38] الآية، وقوله: {والذين يرمون المحصنات} [النور: 4] الآية، وآية المحاربة وغير ذلك ... والمعقول وهو أن الطباع البشرية والشهوة النفسانية مائلة إلى قضاء الشهوة واقتناص الملاذ وتحصيل مقصودها ومحبوبها من الشرب والزنا والتشفي بالقتل وأخذ مال الغير والاستطالة على الغير بالشتم والضرب خصوصا من القوي على الضعيف، ومن العالي على الدنيء، فاقتضت الحكمة شرع هذه الحدود حسما لهذا الفساد، وزجرا عن ارتكابه ليبقى العالم على نظم الاستقامة، فإن إخلاء العالم عن إقامة الزاجر يؤدي إلى انخرامه، وفيه من الفساد ما لا يخفى، وإليه الإشارة بقوله تعالى: {ولكم في القصاص حياة} [البقرة: 179] ومن كلام حكماء العرب: القتل أنفى للقتل. ( الاختیار لتعلیل المختار، کتاب الحدود، ج: 4، ص: 79)


فتویٰ نمبر : 6124/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں