بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 10/10/2026 |
دارالافتاء
عمرہ کی بجائے مظلوم مسلمانو ں کی مدد کرنا
سوال
سائل نے سنت عمرے کے لیے بہت مشکل سے رقم جمع کی ہے یعنی اس سے قبل وہ عمرے کے لیے نہیں گیا ، لیکن اب موجودہ حالات میں جہاں اہل غزہ و مجاھدین غزہ بھی ہماری مدد اور معاونت کے محتاج ہیں ، تو کیا عمرہ کرنا افضل ہے یا ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا ؟ نیز اگر عمرہ کیا جائے تو مظلوموں کی مدد میں یہ رقم نہ دینے پر سائل گناہ گار تو نہیں ہوگا؟ نوٹ : سائل ہر ماہ کچھ نہ کچھ رقم اہل غزہ کے لیے تعاون بھی بھیجتا ہے۔
جواب
نفلی حج یا عمرہ کرنا بھی بہت عظیم سعادت اور نیکی کا کام ہے اور مظلوموں کی مدد کرنا بھی،تاہم نفل امور میں انسان کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ جس کوبھی انجام دینا چاہےاس کو ترجیح دے،نیز اگر کسی جگہ کسی مجبور کی مدد کی ہنگامی ضرورت ہو تو اس ضرورت کو مقدم رکھتے ہوئے عمره کی بجائے ان امداد کو ترجیح دینی چاہیئے ،اوراگر کسی کی استطاعت اور حیثیت دونوں نوافل کو انجام دینے کی ہو تو دونوں بھی کیے جاسکتے ہیں۔ نیز چونکہ دونوں ہی نفلی امور ہیں، لہذا کسی ایک کےادا کرنے پر دوسرے کےادا نہ کرنے کا گناہ نہیں ہوگا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق جب سائل حسب استطاعت اہل غزہ کو امداد بھی بھیجتا ہے،تو عمرہ کے لیے جمع کردہ رقم سے عمرہ ادا کرسکتا ہے،اس میں کوئی گناہ نہیں۔
بناء الرباط أفضل من حج النفل. واختلف في الصدقة، ورجح في البزازية أفضلية الحج لمشقته في المال والبدن جميعاً، قال: وبه أفتى أبو حنيفة حين حج وعرف المشقة.(قوله: ورجح في البزازية أفضلية الحج) حيث قال: الصدقة أفضل من الحج تطوعاً، كذا روي عن الإمام لكنه لما حج وعرف المشقة أفتى بأن الحج أفضل، ومراده أنه لو حج نفلاً وأنفق ألفاً فلو تصدق بهذه الألف على المحاويج فهو أفضل لا أن يكون صدقة فليس أفضل من إنفاق ألف في سبيل الله تعالى، والمشقة في الحج لما كانت عائدةً إلى المال والبدن جميعاً فضل في المختار على الصدقة. اهـ. قال الرحمتي: والحق التفصيل، فما كانت الحاجة فيه أكثر والمنفعة فيه أشمل فهو الأفضل، كما ورد: «حجة أفضل من عشر غزوات». وورد عكسه، فيحمل على ما كان أنفع، فإذا كان أشجع وأنفع في الحرب فجهاده أفضل من حجه، أو بالعكس فحجه أفضل، وكذا بناء الرباط إن كان محتاجاً إليه كان أفضل من الصدقة وحج النفل وإذا كان الفقير مضطراً أو من أهل الصلاح أو من آل بيت النبي صلى الله عليه وسلم فقد يكون إكرامه أفضل من حجات وعمر وبناء ربط. كما حكى في المسامرات عن رجل أراد الحج فحمل ألف دينار يتأهب بها فجاءته امرأة في الطريق وقالت له: إني من آل بيت النبي صلى الله عليه وسلم وبي ضرورة فأفرغ لها ما معه، فلما رجع حجاج بلده صار كلما لقي رجلاً منهم يقول له: تقبل الله منك، فتعجب من قولهم، فرأى النبي صلى الله عليه وسلم في نومه وقال له: تعجبت من قولهم تقبل الله منك؟ قال: نعم، يا رسول الله؛ قال: إن الله خلق ملكاً على صورتك حج عنك؛ وهو يحج عنك إلى يوم القيامة بإكرامك لامرأة مضطرة من آل بيتي؛ فانظر إلى هذا الإكرام الذي ناله لم ينله بحجات ولا ببناء ربط".(الدر المختار وحاشية ابن عابدين،كتاب الحج، فروع في الحج، مطلب في تفضيل الحج على الصدقة،ج:2،ص:621)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 324
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 240
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 879
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 450
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 572
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 488
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 471
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 101
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 76
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 174
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 405
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 150
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 319
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1189
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 383
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں