بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

قبر پر کتبہ لگانا


سوال

ہمارےیہاں جب کسی کو دفن کرتے ہیں تو قبر کے سرہانے ایک کتبہ بطور نشانی  لگا دیتے ہیں جس پر اس کا نام اور تاریخ وفات لکھی ہوتی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ قبر پر کتبہ لگانا کیسا  ہے؟

جواب

ضرورت کی وجہ سے قبر پر تختی لگاکر بطور نشانی اس پر  نام اور تاریخ وفات لکھنا جائز ہے مگر کلمہ طیبہ، قرآنی آیت ،شعر یا میت کی مدح میں کچھ  لکھنا مکروہ ہے۔ لہذاصورت مسئولہ کے مطابق بطور نشانی قبر کے سرہانے  کتبہ لگانا جس پر میت کا نام اور تاریخ وفات لکھی ہو، جائز ہے۔

 

لا ‌بأس ‌بالكتابة ‌إن ‌احتيج إليها حتى لا يذهب الأثر ولا يمتهن۔۔۔۔فأما الكتابة بغير عذر فلا اهـ حتى إنه يكره كتابة شيء عليه من القرآن أو الشعر أو إطراء مدح له ونحو ذلك۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلاة، مطلب في دفن الميت، ج:2، ص:238)


فتویٰ نمبر : 6111/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں