بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بلوچستان کی زمینوں میں عشر یا خراج کا حکم


سوال

 بلوچستان کی زمینیں عشری ہیں یا خراجی؟

جواب

ہر وہ بستی یا علاقہ جس کے باشندوں نے رضامندی سے اسلام قبول کیا ہو، اس کی زمین عشری ہوتی ہے؛ کیونکہ اس زمین پر ابتدا سے جو وظیفہ مقرر کیا جاتا ہے وہ مسلمان پر مقرر  کیاجاتا ہے اور مسلمان پر خراج عائد نہیں کیا جاسکتا،لہٰذا اس پر عشر واجب ہوتا ہے۔ اور ہر وہ بستی یا علاقہ جسے امام (مسلمان حکمران) نے جنگ کے ذریعے فتح کیا ہو اور اس کو مجاہدین میں تقسیم کر دیا ہو، وہ بھی عشر والی زمین ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان اپنی رہائش گاہ کو کھیت یا باغ میں تبدیل کر دے، یا بنجر زمین کو آباد کرے، تو وہ بھی عشر والی زمین شمار ہوگی۔اور ہر وہ بستی جسے امام (مسلمان حکمران) نے زور اور طاقت کے ذریعے فتح کیا ہو، پھر اس کے بعد اس نے وہاں کے  لوگوں پر احسان کرتے ہوئے انہیں وہیں رہنے دیا ہو، تو وہ زمین خراج والی زمین ہوگی؛ کیونکہ  غیر مسلموں پر خراج عائد کیا جاتا ہے۔

بلوچستان کی جو زمینیں پہلے سےمسلمانوں کی ملکیت میں چلی آرہی ہیں اور اسکے متعلق کسی کافر سے  حاصل  ہونے کا تحقیقی علم نہ ہویا حکومت پاکستان نے اس کو مسلمانوں میں تقسیم کیا ہو ،تو ایسی زمینیں عشری ہوں گی ،اسی طرح جن زمینوں کے بارے میں  کچھ معلوم نہ ہو اور اس وقت مسلمانوں کے پاس ہیں،تووہ بھی عشری شمار ہوں گی۔ لیکن وہ زمینیں جو اب کفار کی ملکیت میں ہیں یا جس زمین کے بارے میں یقینی طور پرمعلوم ہو کہ خرید یا ہبہ وغیرہ کے ذریعےکافر سے مسلمان کی ملکیت میں آئی ہے تو ایسی زمینیں خراجی ہوں گی۔

 

وكل بلدة أسلم أهلها طوعا فهي أرض عشرية؛ لأن ابتداء الوظيفة فيها على المسلم والمسلم لا يبدأ بالخراج صيانة له عن معنى الصغار فكان عليه العشر وكل بلدة افتتحها الإمام عنوة وقسمها بين الغانمين فهي أرض عشرية لما بينا وكذلك المسلم إذا جعل داره بستانا، أو أحيا أرضا ميتة فهي أرض عشرية۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وكل بلدة فتحها الإمام عنوة وقهرا، ثم من بها على أهلها فهي أرض خراج؛ لأن ابتداء الوظيفة فيها على الكافر.(المبسوط للسرخسی،کتاب الزکاة،باب عشر الأرضين،ج:3،ص:7,8)

قال: " وإذا كانت لمسلم دار خطة فجعلها بستانا فعليه العشر " معناه إذا سقاه بماء العشر وأما إذا كانت تسقى بماء الخراج ففيها الخراج لأن المؤنة في مثل هذا تدور مع الماء..............ثم الماء ‌العشري ماء السماء والآبار والعيون والبحار التي لا تدخل تحت ولاية أحد والماء الخراجي ماء الأنهار التي شقها الأعاجم.(الهداية،كتاب الزكاة،باب زكاة الزوع و الثمار،ج:1،ص:109,110)

والمسلم إذا اشترى من الذمي أرضا خراجية لا تنقلب عشرية؛لأن المسلم من أهل وجوب الخراج في الجملة.(تحفة الفقهاء،كتاب الزكاة،باب العشر و الخراج،ج:1،ص:320)


فتویٰ نمبر : 10462/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں