بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عورتوں کا دعا اور تلاوت کے لیے قبرستان جانا


سوال

عورتوں کے لیے اپنے عزیز و اقارب کی قبر پر دعا کے لیے جانا اور وہاں ٹھہر کر قبر پر تلاوت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ عورتوں کے لئے قبرستان جانا شرعاً ممنوع ہے ۔خواہ اپنے شوہر، والدین یا کسی رشتہ دار کی ہی قبر کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ احادیث مبارکہ میں ممانعت آئی ہے ۔نیز  اگر بوڑھی عورت عبرت و نصیحت حاصل کرنے یا تذکرہ آخرت کے لیے قبرستان جائے تو اس شرط کے ساتھ اجازت ہے کہ بے پردگی نہ ہو اور وہاں بلند آواز سے رونا اور جزع فزع نہ کرے۔ لیکن عورتوں میں صبر کا مادہ کم ہوتا ہے، اس لیے بوڑھی عورتوں کا بھی قبرستان نہ جانا ہی بہتر ہے۔ اور اگر عورت جوان ہو تو  مذکورہ شرائط کے ساتھ جانا بھی مکروہ ہے۔

 

عن أبي هريرة : «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌لعن ‌زوارات ‌القبور».( سنن الترمذي، باب ما جاء في كراهية زيارة القبور للنساء، رقم الحديث:١٠٥٦)

 (قوله: وقيل: تحرم على النساء إلخ) قال الرملي: أما النساء إذا أردن زيارة القبور إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب على ما جرت به عادتهن فلا تجوز لهن الزيارة، وعليه حمل الحديث: «لعن الله زائرات القبور»، وإن كان للاعتبار والترحم والتبرك بزيارة قبور الصالحين فلا بأس إذا كن عجائز، ويكره إذا كن شواب، كحضور الجماعة في المساجد". (البحر الرائق، الصلاة علي الميت في المسجد،ج:٢،ص:٢١٠)


فتویٰ نمبر : 6115/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں