بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ہنسی، مذاق میں بیوی کوطلاق دینا


سوال

میں نے ایک دن ہنسی ،مذاق میں اپنی  بیوی کو یوں کہا کہ "اگر آپ اپنی خالہ کے گھر چلی گئی تو آپ مجھ پر طلاق "اور اس سے میری ایک طلاق کی نیت تھی پھراس کے تقریبا دو ہفتے بعد وہ اپنی خالہ کے گھر چلی گئی ۔کیا میرے صرف اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہو ئی ہے یا نہیں اگر ہوئی ہو،تو کیا میں بغیر حلا لہ کے اپنی بیوی کے ساتھ زندگی گزارسکتا ہو ں یا نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ طلاق اگرہنسی،مذاق میں دی جائےتب بھی واقع ہو جاتی ہے اسی طرح اگرطلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کیا جا ئے تو اس شرط کے پائے جانے پر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر سائل نے ہنسی،مذاق میں یہ الفاظ کہے ہوں کہ"اگرآپ اپنی خالہ کے گھر چلی گئی توآپ مجھ پرطلاق " پھراس کے بعد وہ اپنی خالہ کے گھر چلی گئی ہو تو شرط کے پائے جانے کی وجہ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے۔ طلاقِ رجعی کے بعد شوہرکے لیے عدت میں رجوع  کرنے کا حق ہوتا ہے، اگرعدت میں رجوع کرلیا تواس سے رجوع درست ہوجائے گا۔اور نکاح برقرار رہے گا، اوراگرشوہرنے عدت میں رجوع نہیں کیا توعدت گزرتے ہی طلاقِ بائن ہوجا ئے گی،میاں بیوی کا تعلق ختم ہوجائے گا، بعد ازاں اگرمیاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا،اورآئندہ سائل کودوطلاقیں دینے کا اختیارہوگا۔

 

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة.(سنن أبي داؤد،باب في الطلاق على الهزل،ج:2،ص:259)

و إذا طلق الرجل امرأته تطليقةً رجعيةً أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض.(الفتاوى الهندية ،كتاب الطلاق‌‌، الباب السادس في الرجعة و فيما تحل به المطلقة و ما يتصل به، ج،:1، ص:470)

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق،الباب الرابع ،الفصل الثالث فى تعليق الطلاق،ج:1،ص:488)


فتویٰ نمبر : 7108/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں