بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

وقوع طلاق کے لیے عورت کا الفاظ طلاق نہ سننا


سوال

شوہر اوربیوی کےدرمیان لڑائی ہوئی،بیوی کمرےسے اٹھ کر دوسری کمرے چلی گئی تو شوہر نے اس وقت بیوی کویہ الفاظ تین مرتبہ کہےکہ "تو مجھ پر طلاق ہے "جبکہ عورت کا کہنا کہ میں نے اس کے یہ الفاظ نہیں سنے،تو کیااس صورت میں طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ جب شوہر طلاق کی نسبت اپنی بیوی کی طرف کر لے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے،چاہے طلاق دیتے وقت بیوی سامنے موجود ہو یا نہ ہو،اوراس نےطلاق کے الفاظ سنے ہو ں یا نہ سنے ہوں،بیوی کی عدم موجودگی یا نہ سننےسےطلاق واقع ہونےپر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرسائل نے اپنی بیوی سے تین مرتبہ یوں کہا ہو کہ"تو مجھ پر طلاق ہے" تو اس سے تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں،چاہے اس نے الفاظ سنے ہوں یانہیں۔

 

‌(وإذا ‌أضاف الطلاق إليها) كأنت طالق۔۔۔(وقع)قال العلامة ابن عابدینؒ(قوله كأنت طالق) وكذا لو أتى بالضمير الغائب أو اسم الإشارة العائد إليها أو باسمها العلمي ونحو ذلك۔(ردالمحتار،کتاب الطلاق،باب الصریح،مطلب فی قولہ:علي الطلاق من ذراعی ،جلد 4،ص،471،469)

لأن ‌الزوج ‌ينفرد بإيقاع الطلاق الثلاث، ولا يتوقف ذلك على علم المرأة۔)المحيط البرهاني في الفقه النعماني،كتاب العتاق،الفصل السابع في الخصومات أربعة۔۔۔ج:4،ص:237)


فتویٰ نمبر : 7106/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں