بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عورت کا بچے کے کان میں اذان دینا


سوال

عورت اگر کسی بچے کے کان میں اذان دے تو اعادہ کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟

جواب

عورت کا بچے کے کان میں اذان دینا

عورت اگر کسی بچے کے کان میں اذان دے تو اعادہ کرنا ضروری ہے  یا  نہیں ؟

الجواب وباللہ التوفیق

بچے کی پیدائش کے بعد اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا سنت ہے۔  مرد کا اذان دینا افضل  اور بہتر ہے، لیکن اگر مرد کی غیرموجودگی میں عورت اذان دے دے تو اذان  درست ہو جائے گی، اعادہ کی ضرورت نہیں ،کیونکہ  یہ نماز کے لیے اذان دینے کی  طرح نہیں ۔اُس میں  آواز بلند کرنا مقصود ہوتا ہے  جس کی وجہ سے عورت کے لیے  مکروہ ہے  جب کہ یہاں ایسا نہیں ۔

قال الملا علی القاری:وقال ابن حجر: الأذان الذي يسن لغير الصلاة كالأذان في أذن المولود اليمنى، والإقامة في اليسرى.( مرقاة المفاتیح، كتاب الصلاة، باب الأذان، ج:٢، ص:٥٤٨)

يكره "أذان الجنب" رواية واحدة كإقامته "و" يكره بل لا يصح أذان "صبي لا يعقل" وقيل والذي يعقل أيضا لما روينا "ومجنون" ومعتوه "وسكران" لفسقه وعدم تمييزه بالحقيقية "و أذان "امرأة" ‌لأنها ‌إن ‌خفضت صوتها أخلت بالإعلام وإن رفعته ارتكبت معصية لأنه عورة.( مراقي الفلاح، باب الأذان، ص: ٧٩)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں