بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

عادت کے خلاف حیض بند ہونے پر صحبت کرنے کا حکم


سوال

اگر کسی عورت کو عادت کے مطابق حیض سات دن آتا ہولیکن ایک مرتبہ چا ر دن  کے بعد ہر قسم کا خون بند ہوجائے،اور وہ غسل  کر لے  اور خاوند سے کہےکہ حیض  کے تمام اثرات ختم ہوگئے ہیں ، اس کے بعد خاوند اس سےصحبت کرے  اور غسل کر نے کے بعد  خون کے کچھ اثرات ظاہر ہوجائیں، تو  کیا  اس صورت میں جماع کرنے پر گناہ ملے گا یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی عورت کے حیض کا خون ایام عادت سے پہلے ہی بند ہوجائے، تواس صورت میں عادت کے ایام مکمل ہونے سے پہلےشوہر کے لیے اس سے ہم بستری جائز نہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ وقتی طور پر خون بند ہواہو اور دوبارہ لوٹ کر آجائے۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص  اپنی بیوی کے ساتھ ایام عادت مکمل ہونے  سے پہلے صحبت کرے، تو یہ جائز نہیں اس سےوہ گنہگار ہوگا۔

 

(ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لأكثره) بلا غسل وجوبا بل ندبا. (وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لأقله) فإن لدون عادتها لم يحل، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا؛ وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه  (أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب (والتحريمة) يعني من آخر وقت الصلاة لتعليلهم بوجوبها في ذمتها.(الدرالمختار، كتاب الطهارة، باب الحيض، ص:44)


فتویٰ نمبر : 10298/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں