بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی شخص پر کیے جانے والے اخراجات ترکہ سے منہا کرنا ،نمازوں کا فدیہ،تقسیم میراث


سوال

ایک خاتون کی شادی تقریباً پچاس سال پہلے ہوئی ہے،کچھ عرصہ بعد اس کے شوہر نے دوسری شادی کی، جس کی وجہ سے پہلی بیوی اپنے باپ کے گھر واپس آ گئی،یہ خاتون تقریباً پینتیس سال اپنےبھائی کے گھر رہی، اس کی اپنی کوئی اولاد بیٹا یا بیٹی نہیں ہے، البتہ سوتیلے بیٹے اور بیٹیاں موجود ہیں، اس خاتون کی ایک سال پہلے کسی بیماری کی وجہ سے دماغی حالت خرا ب ہو گئی تھی اور اب اس کی وفات ہو گئی ہے، جس بھائی کے گھر وہ رہتی تھی وہ بھی وفات پا چکا ہے، تاہم اس کے بیٹے موجود ہیں، اس خاتون کے تمام اخراجات یہ بھتیجے برداشت کیا کرتے تھے، اس خاتون کے ترکے میں ساڑھے چار تولے سونا زیورات کی شکل میں موجود ہے، جب کہ اس کی دو بہنیں اور تین بھائی زندہ ہیں، اب سوالات یہ ہیں:

1: کیا اس کے ترکے میں سوتیلی اولاد کو کچھ ملے گا؟

2:  اس خاتون پر جو خرچہ ہوا ہے، کیا وہ ترکہ سے حاصل ہو سکتا ہے؟

3: میراث کی  تقسیم کس طریقے سے ہوگی؟

4: جو نمازیں ایک سال میں قضا ہو چکی ہیں، اس کا فدیہ کیا ہو گا؟

جواب

  سوال نامہ میں ذکر کردہ سوالات کے جوابات درجہ ذیل ہیں :

1: مرحومہ عورت کی  میراث صرف اس کی وفات کے وقت زندہ بہن بھائیوں میں  تقسیم ہو گی،بھتیجوں یا سوتیلی اولاد کا مرحومہ کی میراث  میں کوئی حصہ نہیں۔

2:بھتیجوں نے اس خاتون پر جو خرچہ کیا ہے، اگر خرچ کرتے وقت اس بات کی وضاحت کی ہو کہ یہ پیسے ہم بطورِ قرض خرچ کر رہے ہیں، توبعد میں ترکہ سے وصول کرسکتے ہیں ،لہذا   میراث تقسیم ہونےسے پہلےترکہ سے یہ قرض وصول کیا جائے گا، اور اگر اس بات کی وضاحت پہلے سے نہ کی ہو تو  وہ خرچ ان کی طرف سے تبرع و احسان شمار ہوگا لہذا اب وصول کرنا جائز نہیں۔

3:میراث کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ اگر واقعی مرحومہ  کی وفات کے وقت مذکورہ وارثوں کے علاوہ کوئی زندہ وارث موجود نہ ہو تو بعد از حقوقِ متقدمہ علی الارث مرحومہ کا ترکہ  (8) آٹھ حصوں میں تقسیم ہو گا، ہر بھائی کو دو دو حصے جب کہ ہر بہن کو ایک ایک حصہ ملے گا۔

4:جہاں تک قضا نمازوں کے فدیے کا تعلق ہے تو اگر ایک سال کے دوران اس کی دماغی حالت مسلسل اس قدر خراب رہی ہو کہ اشارہ کے ساتھ نماز پڑھنے کی بھی قابل نہ تھی ، تو یہ نمازیں  معاف ہیں، اس کا فدیہ نہیں ہو گا، اور اگربعض اوقات  اس قدر حواس باقی رہتا تھا کہ اشارہ کے ساتھ نماز پڑھ سکتی تھی لیکن  نہ پڑھی ہوں، تو اگر فدیہ کی وصیت کی ہو تو ترکہ کے ایک تہائی(1/3) حصے سے ہر فرض اور واجب(وتر) کے بدلے پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت ادا کرنا واجب ہے، اور اگر وصیت نہ کی ہو تو ورثا پر فدیہ ادا کرنا واجب نہیں، تاہم اگر ورثا میت پر احسان کرنا چاہیں تو  اپنی طرف سے ادا کر سکتے ہیں۔

 

قال الله تعالی: ﴿وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن﴾.[النساء: 176]

(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له)... (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له.( الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الخنثى، مسائل شتى،ج:6،ص:747)

(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة...(قوله وعليه صلوات فائتة إلخ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بها وإلا فلا يلزمه وإن قلت، بأن كانت دون ست صلوات.( الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الصلوة، باب قضاء الفوائت،ج:2،ص:72)


فتویٰ نمبر : 3670/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں