بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

قاضی کا فریقین کی عدم موجودگی میں گواہی لینے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ گواہوں کی گواہی کے وقت فریقین یعنی مدعی اور مدعی علیہ کا موجود ہونا ضروری ہے یا قاضی ان کی عدم موجودگی میں بھی گواہی لے سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فریقین کے درمیان    فیصلہ کرتے وقت ا ور  گواہی دیتے وقت مدعی اور مدعی علیہ کا مجلس قضا میں موجود ہونا ضروری ہےتاہم بعض صورتوں میں گواہی کی سماعت مدعی علیہ کی عدم موجودگی میں ممکن ہے، مثلا اگر مدعی علیہ دوسرے شہر کا ہواور غائب ہو، اور مدعی تحریری حکم (مکتوب قضاء) کی درخواست کرے، تو قاضی مدعی کی موجودگی میں گواہی سن کر اسے لکھ کر دوسرے قاضی کو بھیج سکتا ہے کہ وہ اس گواہی کی بنیاد پر فیصلہ کرے،لیکن اس کی بنیاد پر فیصلہ اُس وقت تک مؤخر رکھا جائے گا جب تک دوسرے قاضی کی عدالت میں مدعی علیہ کوحاضر نہ کیا جائے۔

 

ومنها حضرة الخصم فلا تسمع الدعوى والبينة إلا على خصم حاضر إلا إذا التمس المدعي بذلك كتابا حكميا للقضاء به فيجيبه القاضي إليه فيكتب إلى القاضي الذي الغائب في بلده بما سمعه من الدعوى والشهادة ليقضي عليه وهذا عندنا.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الدعوى، فصل في الشرائط المصححة للدعوى، ج:6، ص:222 )

(قوله: ولا يقضي على غائب) أي بالبينة، سواء كان غائبا وقت الشهادة أو بعدها، وبعد التزكية، وسواء كان غائبا عن المجلس أو عن البلد.( رد المحتار، کتاب القضاء، باب في الحبس، مطلب في قضاء القاضي بغير مذهبه، ج:5، ص:409 )


فتویٰ نمبر : 6251/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں