بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
جمعہ کے دن حج کی ادائیگی
سوال
الحاج کے کیا معنی ہیں اور اگر جمعہ والے دن حج ہو تو کیا وہ حج اکبر کہلائے گا؟ کیا صرف ایک سے زیادہ حج ادا کرنے والا "الحاج" کہلاتا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ دوسرے دنوں کی بنسبت جمعہ کے دن کی فضلیت نصوص سے ثابت ہے ،چنانچہ جب جمعہ اور عرفہ ایک دن جمع ہو جائیں تو ایسا موقع زیادہ فضیلت والا ہوگا۔جمعہ کے دن حج کی فضیلت کے حوالے سے ایک روایت’’جامع الاصول‘‘ میں علامہ ابن اثیر ؒ جبکہ "شرح الزرقانی على المؤطا"میں علامہ زرقانیؒ نےرزین ؒکے حوالے سےذکر کی ہے،جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ جمعہ کا حج فضیلت کے اعتبار سے ستر حج کے برابر ہےلیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:"مجھے اس حدیث کے بارے میں معلوم نہیں" ۔البتہ عوا م میں جو مشہور ہے کہ جمعے کے دن یومِ عرفہ ہو تو اس حج کو ’’حجِ اکبر‘‘ کہتے ہیں، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
حج کرنے والے شخص کواردو یا پشتوزبان میں "حاجی"جب کہ عربی میں"الحاج"کہا جاتا ہےجس کا معنی ہے" حج کرنے والا"، اس لیے اگر کوئی شخص ایک حج کرے یا ایک سے زیادہ دونوں صورتوں میں اس کو الحاج کہنا درست ہے۔
"طلحة بن عبيد الله بن كريز: أن رسولَ الله صلى الله عليه وسلم قال: «أفضلُ الأيام يومُ عرفة وافقَ يوم جُمُعَة، و هو أفضل من سبعين حَجَّةً في غير يومِ جُمُعة، وأفْضَلُ الدُّعاءِ: دُعَاءُ يومِ عَرَفَةَ، وأفضلَ ما قلتُ أنا والنّبيُّون من قبلي: لا إله إلا الله وحدَه لا شَريكَ له». أخرج «الموطأ» من قوله: «أفضل»، والحديث بطوله ذكره رزين".(جامع الأصول في أحاديث الرسول،ج:9،ص:264)
" وأما ما ذكره رزين في جامعه مرفوعاً: خير يوم طلعت فيه الشمس يوم عرفة، وافق يوم الجمعة، وهو أفضل من سبعين حجةً في غيرها، فهو حديث لاأعرف حاله؛ لأنه لم يذكر صحابيه ولا من أخرجه، بل أدرجه في حديث "الموطأ" الذي ذكره مرسلاً عن طلحة بن عبد الله بن كريز، وليست الزيادة المذكورة في شيء من الموطآت، فإن كان له أصل احتمل أن يراد بالسبعين التحديد أو المبالغة، وعلى كل منهما فثبتت المزية بذلك، والله أعلم".( فتح الباري لابن حجر،ج:8،ص:271)
"ووقع في تجريد الصحاح لرزين بن معاوية الأندلسي زيادة في أول هذا الحديث، وهي أفضل الأيام يوم عرفة وافق يوم جمعة وهو أفضل من سبعين حجة يوم الجمعة، وأفضل الدعاء. . . إلخ. وتعقبه الحافظ فقال: حديث لا أعرف حاله؛لأنه لم يذكر صحابيه ولا من خرجه، بل أدرجه في حديث الموطأ هذا، وليست هذه الزيادة في شيء من الموطآت، فإن كان له أصل احتمل أن يراد بالسبعين التحديد أو المبالغة في الكثرة، وعلى كل حال منهما ثبتت المزية، انتهى."(شرح الزرقاني على المؤطا، كتاب القرآن، باب ما جاء في الدعاء، ج:3، ص:51)
"الحاجُّ والحاجَّةُ: أَحد الحُجَّاجِ، والداجُّ والدَّاجَّةُ: الأَتباعُ؛ يُرِيدُ الجماعةَ الحاجَّةَ ومَن مَعَهُمْ مِن أَتباعهم." (لسان العرب، ج: 2، ص: 227)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں