بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

جی پی فنڈ میں اختیاری کٹوتی کرکے اضافی رقم لینے کا حکم


سوال

حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین سے جی پی فنڈ کی جو کٹوتی ہوتی ہیں، اس پر ہونے والی اضافی رقم کے لینے اور نہ لینےمیں اب ملازم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اس اضافی رقم کو لے لے یا چھوڑ دے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں اس اضافی رقم کا حکم کیا ہوگا؟

جبکہ  جامعہ عثمانیہ پشاور کے فتویٰ نمبر 3180/297/322 میں اگر ملازم اپنے اختیار سے کٹوتی کرلےتو اس کو ربا شمار کرکے اس پر عدم جواز کا حکم لگایا گیا ہے لیکن بات یہ ہے کہ جس رقم پر یہ اضافہ مل رہا ہے، وہ اصلی رقم ملازم کی ملکیت میں ابھی تک آئی نہیں ہوتی، تو کس طرح اس کو ربا شمار کیا جائے گا؟ اسی وجہ سے بعض دوسرے دارالافتا  والوں نے اس اضافہ کو اصلی رقم کی طرح ملازم کے لیے جائز قرار دیا ہے۔برائے مہربانی تسلی بخش جواب دے کر اس کا حل اور ربا کی علت کی تعیین فرما کر ممنوں فرمائیں۔

جواب

شرعی نقطہ نظر سے جس طرح ربا سے بچنا ضروری ہے اسی طرح شبہ ربا سے بھی بچنا ضروری ہے۔چنانچہ  اگر ملازم جی پی فنڈ میں اپنے اختیار سے کٹوتی کرلےتو اس پر ملنے والی اضافی رقم لینے کے متعلق عدم جواز کا فتوی دیا جاتاہے۔ اس میں عدم جواز کی علت "تشبہ بالربا"ہے، کیونکہ اگرچہ اصل رقم ابھی تک ملازم کی ملکیت میں آئی نہیں ہوتی،لیکن جب وہ  تنخواہ لینے سے قبل اپنی رضامندی سے رقم کٹواکرسودی اکاؤنٹ میں رکھواتا ہے، تو یہ اپنی اجرت (تنخواہ) میں تصرف کرکے سود حاصل کرنا ہے اس وجہ سے یہ شبہ رباسے خالی نہیں اور اسی بنا پراس کی ممانعت کا حکم لگایا جاتا ہے۔

 

لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء.( صحىح مسلم، كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا، ج:3، ص:1219، رقم الحديث:1098)

عن النعمان بن بشير رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «‌الحلال ‌بين والحرام بين، وبينهما أمور مشتبهة، فمن ترك ما شبه عليه من الإثم كان لما استبان أترك، ومن اجترأ على ما يشك فيه من الإثم أوشك أن يواقع ما استبان، والمعاصي حمى الله، من يرتع حول الحمى يوشك أن يواقعه.(صحيح البخاري، كتاب البيوع، با ب الحلال والحرام، ج:3، ص:53، رقم الحديث:2051)

(قوله ‌كل ‌قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا.(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب البيوع،مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:166)


فتویٰ نمبر : 3686/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں