بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

میٹنگ کے دوران نماز پڑھنا


سوال

ملازمت کےاوقات میں میٹنگ کے دوران نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہےکہ نمازاللہ کا حکم اورایک شرعی فریضہ ہے،اس وجہ سے فرض نماز،سنت موکدہ اورواجب کے بقدر وقت ملازمت سےمستثنیٰ ہوتا ہے، جیسا کہ طبعی ضروریات مثلا: کھانا پینا اور قضائے حاجت کا وقت ملازمت سے مستثنی ہوتا ہے۔

لہذاصورت مسئولہ میں میٹنگ کے اوقات میں فرض،واجب اورسنت موکدہ نمازپڑھی جاسکتی ہے لیکن نوافل ادا کرنا درست نہیں ہے۔

 

(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، مبحث الأجير الخاص، مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة، ج:6، ص:70(


فتویٰ نمبر : 3699/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں