بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

اختیار کی صورت میں جی پی فنڈ اور سی پی فنڈ کا حکم


سوال

میں ایک سرکاری استاد ہوں۔ حکومت پاکستان ہر ملازم سے جی پی فنڈ کے مد میں بنیادی تنخواہ کا کچھ حصہ کاٹتی ہے ،سال کے آخر میں حکومت اس جمع شدہ رقم پر منافع دیتی ہے جو کہ ملازم کے جمع شدہ  رقم پر جمع ہوتی ہے۔ اگرچہ حکومت جی پی فنڈ کے مد میں رقم ملازم سے جبراً کاٹتی ہے جس میں ملازم کو کوئی اختیار نہیں ہوتا، مگرجمع شدہ رقم پر منافع لینا یا نہ لینا  اب ملازم کے اختیار میں ہے۔اور دوسری بات حکومت پاکستان نے اب پنشن کو ختم کر کے اس کی جگہ  سی پی فنڈ کو متعارف کرایا جو کہ جی پی فنڈ ہی کی طرح ہے فرق صرف اتنا ہے کہ سی پی فنڈ میں ملازم سے رقم کاٹنے کے بعد   حکومت اس کے ساتھ  رقم ڈالتا ہے  اور سال کے آخر میں جمع شدہ رقم پر منافع دیتا  ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ  جی پی فنڈ پر منافع لینا  اختیار آنے کی وجہ سے حرام ہے  یا نہیں ؟اسی طرح  سی پی فنڈ پر منافع لینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  جی پی  فنڈ میں  سرکاری ملازمین سے جو رقم کاٹی جاتی ہے، اگر یہ رقم ملازم  سےجبرا کاٹی جاتی ہو اور ملازم قانونی مجبوری کے پیش نظر اس معاملہ میں مداخلت نہیں کر سکتاتو اس صورت میں جی پی فنڈمیں ملنے والی رقم  (اصل رقم بمع منافع)ملازم کے لیے حلال ہے، اور اگر جی پی فنڈ کی کٹوتی  اختیاری ہویا جی پی فنڈ کی کٹوتی تو جبراًہو لیکن اس کو سودی اکاؤنٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دیا جاتا ہو  تو ایسی صورت میں سودی اکاؤنٹ میں رکھواکر اضافی رقم لینا جائز نہیں۔ نیز سی پی فنڈ کا حکم بھی جی پی فنڈ کے حکم کی طرح ہے۔

 

عن النعمان بن بشير قال  سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وأهوى النعمان بإصبعيه إلى أذنيه  إن الحلال بين وإن الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ألا وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله ألا وهي القلب۔ (صحيح مسلم،کتاب البیوع، ج3، ص1219، حديث نمبر:1599)

‌ثم ‌الأجرة ‌تستحق ‌بأحد ‌معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه.(الفتاوى الهندية، كتاب الاجارة، الباب الثاني متي تجب الاجرة وما يتعلق به الخ، ج:4، ص413)

والنقدية أوجبت فضلا في المالية فتتحقق شبهة الربا وهي مانعة كالحقيقة.(الهداية،كتاب البيوع،باب الربا،ج:3، ص:62)

(قوله وعلله إلخ) علله الحانوتي بالتباعد عن شبهة الربا، لأنها في باب الربا ملحقة بالحقيقة (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الفرائض ،ج:6، ص:757)


فتویٰ نمبر : 6093/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں