بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

موبائل میں گانے اور فحش فلمیں ڈالنے والے کو دکان کرایہ پر دینا


سوال

اگر کوئی شخص اپنی دکان کسی کمپیوٹر والے کو کرایہ پر دے جس میں وہ لوگوں کے موبائل میں گانے،فلمیں اور فحش فلمیں ڈال کر  پیسے کما کر اس  مالک کو کرایہ ديتا ہے   تو کیا  ایسے شخص کو دکان کرایہ پر دینے سے دکان کا مالک گناہ گار ہوگا یا نہیں  اور اس کے لیے کرایہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص دکان یا مکان کسی کو کرایہ پر دے تاکہ وہ اس  میں رہائش اختیار کرے  یا کاروبار کرے، لیکن کرایہ دار اس مکان  یا دکان میں گناہ کا کام کرے، تو اس صورت میں مالک مکان یا مالک دکان گناہ گار نہیں ہوگا، کیونکہ مالک کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ اس مکان یا دکان میں  گناہ کا کام کرے، گناہ گار وہ شخص ہوگا جو ان کاموں کا ارتکاب کرے ۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی  شخص اپنی دکان کمپیوٹر والے کو کرایہ پر دے اور وہ لوگوں کے موبائل میں گانے، فلمیں اور فحش مواد ڈال کر پیسے کماتا ہو، تو اس سے دکان کا مالک گناہ گار نہیں ہوگا اور اس کے لیے کرایہ لینا جائز ہے ۔

 

ولهذا ‌يجب ‌الأجر ‌بمجرد ‌التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار . (ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الحظر والاباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:396)

ولا بأس بأن يؤاجر المسلم دارا ‌من ‌الذمي ‌ليسكنها فإن شرب فيها الخمر، أو عبد فيها الصليب، أو أدخل فيها الخنازير لم يلحق المسلم إثم في شيء من ذلك؛ لأنه لم يؤاجرها لذلك والمعصية في فعل المستأجر وفعله دون قصد رب الدار فلا إثم على رب الدارفي ذلك.(المبسوط للسرخسي، كتاب الاجارات، باب الاجارة الفاسدة، ج:16، ص:39)


فتویٰ نمبر : 3688/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں