بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

صاحب نصاب شخص کا مشترکہ گھر میں رہنے والے بہن بھائیوں کو زکوۃ دینا


سوال

ایک گھر میں ایک ساتھ رہنے والے ایک صاحب نصاب  بھائی دوسرے  مستحق  بہن بھائیوں کو زکوۃ دے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی، اصول وفروع(باپ، دادا، پردادا، بیٹا، پوتا، نواسہ وغیرہ)ایک دوسرے کو زکوۃ  نہیں د ےسکتے، البتہ مستحق و محتاج بہن بھائیوں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے۔ لیکن اگرتمام  بھائی ایک ساتھ مشترکہ گھر میں رہتے ہوں اور وہ اس زکوۃ کی رقم کو مشترکہ اخراجات میں استعمال کریں تو پھر ان بھائیوں کو زکوۃ دینا جائز نہیں، کیونکہ یہ اپنی زکوۃ سے انتفاع  حاصل کرنا ہے، البتہ اگر وہ اس رقم کو گھر کے مشترکہ اخراجات میں استعمال نہ کریں بلکہ  اپنی ذاتی ضروریات میں خرچ کریں  تو پھر ان  کو زکوۃ دینا جائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر  ایک گھر میں رہنے والے صاحب نصاب بھائی دوسرے مستحق بہن بھائیوں کو زکوۃ دیں تو یہ جائز ہے بشرطیکہ وہ اس رقم کو گھر کے مشترکہ خرچہ میں استعمال نہ کریں، بلکہ اپنی ذاتی ضرورت میں خرچ کریں ۔

 

ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم؛ لانقطاع منافع الأملاك بينهم.(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، فصل ركن الزكوة، فصل الذي الذي يرجع الي المودي اليه، ج:2، ص:50)

ولا يدفع إلى امرأته للاشتراك في المنافع عادة، ولا تدفع المرأة إلى زوجها عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:207)

ومنها: أن لاتكون منافع الأملاك متصلةً بين المؤدي وبين المؤدى إليه؛ لأن ذلك يمنع وقوع الأداء تمليكًا من الفقير من كل وجه بل يكون صرفًا إلى نفسه من وجه.(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، فصل ركن الزكوة، فصل الذي الذي يرجع الي المودي اليه، ج:2، ص49)


فتویٰ نمبر : 10295/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں