بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

تعمیر کے خرچے کا کرایہ میں پورا ہونے سے پہلے اجارہ فسخ کرنا/ فسخ کے بعد دکاندار سے کرایہ کا مطالبہ کرنا


سوال

ایک شخص نے مالکِ زمین سے دکان عقدِ اجارہ پر لی، اس طور پر کہ اس دکان کی تعمیر اپنے خرچے سے کی اور جتنا خرچہ ہوا، اس سے مہینے کے اعتبار سے کرایہ میں کٹوتی ہوتی تھی۔ اب دکان کی تعمیر پر جو خرچہ ہوا تھا، وہ کرایہ میں پورا نہیں ہوا، بلکہ تقریباً تین لاکھ روپے باقی ہیں۔ اب دکاندار نے اس دکان کو چھوڑ دیا ہے۔ تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا دکاندار کے لیے تعمیر کے پیسے کرایہ میں پورا ہونے سے پہلے اجارہ ختم کرنا جائز ہے؟ اور اگر اس دکان کو کسی اور نے کرایہ پر نہیں لیا ہے، تو کیا مالکِ مکان اس دکاندار سے کرایہ   کا مطالبہ کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

اگرعاقدین نے  کسی  معین مدت تک  آپس میں عقد اجارہ کیا ہو  تو مدت  کے پورا ہونے سے پہلے کسی عذر کے بغیر  یکطرفہ طور پر  اجارہ فسخ کرنا جائز   نہیں، البتہ اگر کوئی مدت متعین نہ ہو تو پھر   بغیر کسی عذر اجارہ کو  فسخ کرنا جائز ہے۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر  مالک مکان نے دکاندار کو دکان کسی معین مدت تک اجارہ  پر دی ہو  اور دکاندار  کسی عذر کے بغیر متعینہ وقت  سے پہلے اس عقد اجارہ کو فسخ کرنا چاہتا ہو  تو مالک مکان کی رضامندی کے بغیر اس کو فسخ کرنا جائز نہیں، بلکہ عقد اجارہ بدستور جاری  رہے گا اور مالک مکان  اجرت کا مستحق شمار ہوگا ، البتہ  اگر  اجارہ کی مدت متعین نہ  ہو  اور ہر  مہینے کے اعتبار سے  عقد اجارہ  کی تجدید ہوتی ہو  تو دکاندار کےلیے بغیر کسی عذر کے مہینہ کے آخر میں دکان  چھوڑنا جائز ہے ایسی صورت میں معاہدہ ختم کرنے  اور دکان خالی کرانے کے بعد مالک کو کرایہ کے مطالبہ کا حق نہیں۔

 

الإجارة تنقض بالأعذار عندنا وذلك على وجوه إما أن يكون من قبل أحد العاقدين أو من قبل المعقود عليه وإذا تحقق العذر ذكر في بعض الروايات أن الإجارة لا تنقض وفي بعضها تنقض، ومشايخنا وفقوا فقالوا: إن كانت الإجارة لغرض ولم يبق ذلك الغرض أو كان عذر يمنعه من الجري على موجب العقد شرعا تنتقض الإجارة من غير نقض ... استأجر حانوتا ليعمل فيه عملا ثم أراد أن يتحول عن تلك الصنعة إلى صنعة أخرى فإن تهيأ له أن يعمل الصنعة الثانية في ذلك الحانوت ليس له النقض وإلا فله النقض لأنه تحقق العذر. كذا في الكبرى. ( الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب التاسع عشر: في فسخ الإجارة بالعذر،ج: 4، ص: 458)


فتویٰ نمبر : 3687/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں