بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مجلس میں چھینک کا جواب دینا


سوال

مجلس میں اگر کسی کو چھینک آئے  اور وہ بآواز بلند  الحمد للہ  کہہ دے تو کیا مجلس میں بیٹھے تمام افراد پر اس کا جواب دینا لاز م ہے کیونکہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان  پر جو حقوق ہیں ان میں سے ایک چھینک کا جواب دینا بھی ہے ؟

جواب

چھینکنے والے  کے لیے چھینک آنے پر ”الحمد للہ“ کہنا سنت ہے اور سننے والوں پر " یرحمک اللہ"  جواب میں کہنا واجب کفائی ہے، لہذا جب چھینکنے والا "الحمد للہ " کہے ،اور اس مجلس میں سے کوئی ایک بھی اس کے جواب میں ”یرحمک اللہ “ کہہ دے ، تو سب کی طرف سے واجب ادا ہوجائے گا،البتہ افضل یہ ہے کہ تمام سامعین جواب دیں تاکہ  سب کو ثواب حاصل ہو جائے اور  اگرمجلس میں سے کوئی بھی شخص  "الحمد للہ" کے جواب میں "یرحمک اللہ " نہ کہے، تو سب گنہگار ہوں گے۔

 

‌ٍ"وينبغي ‌للعاطس ‌أن ‌يرفع ‌صوته ‌بالتحميد، حتى يسمع من عنده فيشمته، ولو شمته بعض الحاضرين أجزأ عنهم، والأفضل أن يقول كل واحد منهم لظاهر الحديث".(رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الحظر، والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:141)

"(وتشميت العاطس) ، ‌ظاهر ‌الأمر ‌فيه ‌يدل ‌على ‌أنه ‌واجب، ‌وكذلك ‌أحاديث ‌أخر ‌في ‌هذا ‌الباب ‌يدل ‌ظاهرها ‌على ‌الوجوب...وعند جمهور العلماء من أصحاب المذاهب الأربعة: إنه فرض كفاية إذا قام به البعض سقط عن الباقين".(عمدة القاري، كتاب الأدب، باب: ما يستحب من العطاس، وما يكره من التثاؤب، ج:22،  ص:226)


فتویٰ نمبر : 6107/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں