بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
بیع کرتے وقت خیار عیب سے براءت کی شرط لگانا
سوال
اگر کوئی شخص سیکنڈ ہینڈ موبائل وغیرہ فروخت کرتا ہو، اور اس میں کچھ فالٹ بھی ہو ،بائع مشتری کو موبائل دیتے وقت عیوب سے براءت کا اظہار کرےاور مشتری اس پر راضی ہو، بعد میں مشتری کو موبائل میں کوئی نقص معلوم ہوجائے اورمشتری مبیع کی واپسی یا پیسوں میں کٹوتی کرنا چاہ رہا ہوتو کیا مشتری کا اس قسم کا مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ فروخت کی جانےوالی چیز میں بائع کوپہلے سے کوئی عیب معلوم ہو،تو اس کو بیان کر کے فروخت کرنا چاہیے، تا ہم اگر بائع عقد کے وقت مبیع کے عیوب سے براءت کا اظہار کرے تو یہ بھی جائز ہے، لہذا اگر بعد میں مبیع میں کوئی نقص مشتری کو معلوم ہو جائے تو اس پر مشتری کسی چیز کا حقدار نہ ہو گا، نہ مبیع کی واپسی کا اور نہ پیسوں میں کٹوتی کرنے کا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر بائع مشتری كوموبائل فروخت کرتے وقت مبیع کے عیوب سے براءت کا اظہار کرے اور بعد میں مشتری کو مبیع میں کوئی نقص معلوم ہوجائے تو اس کو مبیع کی واپسی یا پیسوں کی کٹوتی کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں۔
"(ومن باع عبدا وشرط البراءة من كل عيب) البيع بشرط البراءة عن كل عيب صحيح سمى العيوب وعددها أو لا علمه البائع أو لم يعلمه وقف عليه المشتري أو لم يقف أشار إليه أو لا موجودا كان عند العقد والقبض أو حدث بعد العقد قبل القبض عند أبي حنيفة وأبي يوسف في رواية"۔ (العناية شرح الهداية، كتاب البيوع، باب خيار العيب، ج:6، ص:396)
"(قوله وصح البيع بشرط البراءة من كل عيب) بأن قال :بعتك هذا العبد على أني بريء من كل عيب"۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،باب خيار العيب، مطلب في البيع بشرط البراءة من كل عيب، ج: 5، ص:42)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں