بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دوران سال سونا زیادہ ہونے کی صورت میں زکوۃ کا حکم


سوال

میری بیوی کے پاس آٹھ تولہ سونا ہے سال گزرنے سے چند ماہ  پہلےڈھائی تولہ سونا مزید بھی  اس کی ملکیت میں آگیا   تو  سوال یہ ہے کہ میری بیوی کس طرح زکوۃ ادا کرے گی؟  ڈھائی  تولہ سونا پر علیحدہ سال گزرنا ضروری ہے یا آٹھ تولہ سونا کے ساتھ ملا کر زکوۃ ادا کرے گی؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص  صاحب نصاب ہو اورسال کے دوران  اس کی ملکیت میں مزید مال آجائے تو دونوں کو ملا کر پورے مال پر زکوۃ کی ادائیگی ضروری ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل کی بیوی کے پاس جب آٹھ تولہ سونا  پہلے سے تھا تو وہ صاحب نصاب تھی اور سال گزرنے سے پہلے جب وہ مزید ڈھائی تولہ سونا کی مالکہ بن گئی تو جب گزشتہ نصاب پر سال مکمل ہوجائے تو پورے  ساڑھے دس تولے سونا کی زکوۃ دے گی۔ ڈھائی تولہ سونا پر علیحدہ سال گزرنا ضروری نہیں۔ 

 

"ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول من جنسه ضمه إليه وزكاه به"۔(الهداية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:209)

"ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أوّلا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك"۔(الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:180)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں